اسٹاک ایکسچینج : امریکا، ایران کشیدگی کے باعث 100 انڈیکس 721 پوائنٹس گر گیا
- آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات سے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پیر کو 721 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
بینچ مارک انڈیکس ابتدا میں دباؤ کا شکار رہا، تاہم صبح کی کاروباری سرگرمی کے دوران بتدریج بحال ہوا اور دوپہر کے قریب 178,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب بڑھا۔
مگر دوپہر کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ دوبارہ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں سہ پہر کے دوران بتدریج کمی ہوتی رہی۔ کاروبار کے اختتام کے قریب یہ گراوٹ مزید تیز ہوگئی اور انڈیکس دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 176,944.91 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 720.83 پوائنٹس یا 0.41 فیصد کمی سے 176,975.67 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جس سے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ منفی کردار یو بی ایل، ایس وائی ایس، ایچ بی ایل، لکی اور پی پی ایل نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس کو 755 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اگست میں کے ایس ای 100 انڈیکس ماہانہ بنیادوں پر معمولی 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جو نئی مثبت پیش رفت کے فقدان اور امریکا، ایران امن مذاکرات میں محدود پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) محدود دائرے میں کاروبار کرتا رہا جبکہ 100 انڈیکس 530 پوائنٹس یا 0.3 فیصد اضافے کے بعد 177,696.52 پوائنٹس پر بند ہوا۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تعطل اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کا سلسلہ برقرار رہا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیا میں شیئر مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات کم کیے جانے کے بعد بانڈز کی ییلڈز بلند سطح پر برقرار رہیں۔
امریکی فورسز کی جانب سے اتوار کو ایران کے جزیرے لارک پر دو لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ فیوچرز کی قیمت 1.4 فیصد اضافے سے 89.38 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
مارکیٹوں نے ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو 57 فیصد تک بڑھا کر ردعمل دیا جس کے باعث قلیل مدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز میں نمایاں اضافہ ہوا اور ییلڈ کَرو نسبتاً ہموار ہوگئی۔
قبل از وقت شرح سود میں اضافے کے امکان کے حوالے سے جمعہ کو جاری ہونے والی اگست کی روزگار رپورٹ اور 11 ستمبر کو جاری ہونے والے صارف قیمتوں کے اعدادوشمار اہم ہوں گے۔
تجزیہ کاروں نے جولائی میں 23 ہزار ملازمتوں کی اچانک کمی کے بعد اگست میں 58 ہزار ملازمتوں کے اضافے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ کمزور نتائج درکار ہوں گے۔
بلند ییلڈز اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث جاپان کا نکی انڈیکس 2.1 فیصد گر گیا جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 2.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.7 فیصد کم ہوگیا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی 3 پیسے کے اضافے کے ساتھ 277.47 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 658.33 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 937.27 ملین حصص ہوگیا۔حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 31.45 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 39.13 ارب روپے رہی۔
سینرجیکو پی کے 293.18 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہی، جبکہ ویوز ہوم (ر) 71.23 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور بینک آف پنجاب 52.29 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
پیر کو مجموعی طور پر 503 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 169 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 302 میں کمی ہوئی، جبکہ 32 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں۔



Comments