نیپرا کی سی ایس ایم میں ترامیم کی تجویز، بلک صارفین کو بجلی خریدنے کی اجازت
- اس لیے مجوزہ ترامیم کا مقصد نیپرا کی جانب سے پہلے ہی نوٹیفائی کیے گئے ریگولیٹری قواعد کے لیے ضروری آپریشنل فریم ورک فراہم کرنا ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کنزیومر سروس مینوئل (سی ایس ایم) میں ترامیم کی تجویز دی ہے، جس کے تحت بلک پاور کنزیومرز (بی پی سی) کو سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ (ایس او ایل آر) اور ایک یا ایک سے زائد مسابقتی سپلائرز (سی ایس) سے بیک وقت بجلی حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
مجوزہ ترامیم کا مقصد 14 اپریل 2026 کو جاری کردہ ایس آر او 635(I)/2026 کے ذریعے نیپرا کنزیومر الیجیبلٹی کرائیٹیریا (الیکٹرک پاور سپلائرز) ریگولیشنز، 2022 میں کی گئی ترامیم پر عملی طور پر عمل درآمد کرنا اور مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) فریم ورک کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت ایک میگاواٹ یا اس سے زائد منظور شدہ لوڈ رکھنے والےبی پی سی کو اپنی مجموعی انرجی اور کیپیسٹی ضروریات کے مقررہ اور متعین فیصد کے لیے بیک وقت ایس او آر ایل اور ایک یا ایک سے زائد مسابقتی سپلائرز کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت ہوگی۔
ایس او آر ایل اور تمام مسابقتی سپلائرز کے ساتھ معاہدے میں شامل فیصد کا مجموعہ بی پی سی کی مجموعی انرجی اور کیپیسٹی ضروریات کے 100 فیصد کے برابر ہونا ضروری ہوگا۔
نیپرا نے نشاندہی کی کہ موجودہ کنزیومر سروس مینوئل، جس میں 26 نومبر 2025 کو نظرثانی کی گئی تھی، متعدد سپلائرز سے بجلی حاصل کرنے کے انتظامات یا مسابقتی بجلی مارکیٹ میں ایس او آر ایل اور مسابقتی سپلائرز کے درمیان سوئچنگ کے طریقہ کار سے متعلق مخصوص دفعات موجود نہیں ہیں۔
اس لیے مجوزہ ترامیم کا مقصد نیپرا کی جانب سے پہلے ہی نوٹیفائی کیے گئے ریگولیٹری قواعد کے لیے ضروری آپریشنل فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
مجوزہ فریم ورک صنعتی اور دیگر بڑے بجلی صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے انہیں بجلی کے سپلائرز کے انتخاب میں زیادہ لچک ملے گی۔ بی پی سی اپنی ضروریات کا ایک مقررہ حصہ ریگولیٹڈ ایس او آر ایل کے پاس برقرار رکھتے ہوئے باقی بجلی ایک یا ایک سے زائد مسابقتی سپلائرز سے حاصل کرسکے گا۔
مجوزہ ترامیم میں کنکشنز، میٹرنگ، بلنگ، سیٹلمنٹ اور سپلائرز کے درمیان سوئچنگ سے متعلق آپریشنل معاملات کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ابھرتے ہوئے مارکیٹ اسٹرکچر کے تحت ایس او آر ایل کی سپلائی ریگولیٹڈ اور یکساں شرائط کے تابع رہے گی، جبکہ مسابقتی سپلائی کا حصہ صارفین اور مسابقتی سپلائرز کے درمیان بائی لیٹرل انتظامات کی بنیاد پر ہوگا۔ ریگولیٹڈ چارجز، بشمول یوز آف سسٹم چارجز متعلقہ لین دین پر لاگو رہیں گے۔
نیپرا نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، بشمول صنعتی ایسوسی ایشنز، صارفین اور دیگر مارکیٹ شرکاء پر زور دیا ہے کہ وہ مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیں اور حتمی منظوری سے قبل عملی خامیوں کی نشاندہی کریں۔
اتھارٹی نے بالخصوص انڈسٹری ٹو انڈسٹری مشاورت کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ متعدد سپلائرز کے انتظامات پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے مخصوص اور قابل عمل تجاویز پیش کی جا سکیں۔
اسٹیک ہولڈرز کو عوامی نوٹس کی اشاعت سے 30 دن کے اندر اپنی آراء اور تجاویز نیپرا کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس مشاورتی عمل پر صنعتی صارفین اور بجلی مارکیٹ کے شرکا کی گہری نظر ہوگی، کیونکہ مجوزہ فریم ورک پاکستان کی بجلی مارکیٹ میں صارفین کے انتخاب کو وسعت دینے اور مسابقتی نظام کو عملی شکل دینے کی جانب ایک مزید اہم قدم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments