غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، 4 سالہ بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، طبی ذرائع
- غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں میں 4 سالہ بچے سمیت 2 فلسطینی جاں بحق، جنگ بندی کے بعد شہادتوں کی تعداد 1,280 سے تجاوز کرگئی
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اتوار کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم دو افراد جاں بحق، جن میں 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ ایک حملہ وسطی غزہ کے علاقے الزوایدہ میں ایک عمارت پر کیا گیا، جس سے قبل اسرائیلی فوج نے عمارت کے مالکان کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔
طبی عملے کے مطابق دھماکے سے اڑنے والا ملبہ اور چھروں کی زد میں آس پاس کئی درجن میٹر کے علاقے میں موجود کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے، جن میں 4 سالہ محمد عبدالسلام طٰہٰ بھی شامل تھا، جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔
عمارت کے قریب پناہ لیے ہوئے بے گھر فلسطینی ابو احمد نے کہا، ’’یہاں کوئی جنگ بندی نہیں، کچھ بھی نہیں۔‘‘ فضائی حملے سے عمارت ملبے، مڑے ہوئے لوہے اور کنکریٹ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم حل چاہتے ہیں، ہم امن سے جینا چاہتے ہیں۔‘‘
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق دوسرا فضائی حملہ قریبی نصیرات پناہ گزین کیمپ میں کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ دونوں حملوں کی تحقیقات کررہی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے حماس پر حملے جاری
اکتوبر 2025 میں امریکا کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی نے غزہ میں جاری بڑے پیمانے کی لڑائی تو روک دی، تاہم اسرائیلی فوج کے حملے ختم نہ ہوسکے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس اور غزہ کے دیگر جنگجوؤں کے حملوں کو روکنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کی رات جاری بیان میں کہا کہ اس نے دیر البلح شہر میں حماس کے ایک سینئر رکن شریف الحسنات کو حملے میں ہلاک کردیا ہے۔ فوج کے مطابق وہ حماس کے ’’زیرِ زمین ڈھانچے کی بحالی‘‘ کی کوششوں کی قیادت کررہا تھا۔
حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور غزہ تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع تر منصوبے پر عمل درآمد کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس منصوبے میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا اور حماس کا غیر مسلح ہونا بھی شامل ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ اکتوبر جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے غزہ میں 1,280 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے۔
مغربی کنارے میں تشدد
اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی شہری کو ایک مشتبہ فلسطینی شخص نے چاقو مار کر زخمی کردیا، پولیس اور اسرائیلی فوج نے بتایا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی سیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں ایک شخص کو جیریکو کے قریب مرکزی شاہراہ کے ساتھ ایک گاڑی کے پاس کھڑے دیکھا جاسکتا ہے، جس نے اسرائیلی شہری کے اپنی کھڑی گاڑی کے قریب پہنچنے پر اسے چاقو مار دیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق مشتبہ حملہ آور پیدل فرار ہوگیا، جس کی تلاش میں فوجی اہلکار کارروائی کررہے ہیں۔
مغربی کنارے کے ایک اور واقعے میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے نابلس کے قریب عسکر پناہ گزین کیمپ میں چھاپے کے دوران 14 سالہ لڑکے اسلام عجوری کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔
مغربی کنارہ تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں اور لگ بھگ 5 لاکھ اسرائیلی آبادکاروں کا مسکن ہے، جہاں آبادکاروں کے تشدد اور اراضی و وسائل پر قبضے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے اور بیشتر ممالک فوجی قبضے سے متعلق بین الاقوامی قانون کے تحت ان اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے اور علاقے پر اپنے دعوے کے لیے بائبل میں مذکور اور تاریخی تعلقات کو بنیاد بناتا ہے۔


Comments