روس ستمبر کے بعد مزید 300,000 فوجی بھرتی کرسکتا ہے، زیلنسکی
- روس 2027 میں مزید فوجی بھرتی کرکے مجموعی تعداد 500,000 تک پہنچانے کی کوشش کرسکتا ہے، یوکرین
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ روس ستمبر کے وسط میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد جنگی کوششوں کے لیے مزید 300,000 فوجیوں کی بھرتی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
زیلنسکی نے اتوار کو جاری کیے گئے صحافیوں کے لیے اپنے بیان میں کہا کہ روس 2027 میں مزید فوجی بھرتی کرکے مجموعی تعداد 500,000 تک پہنچانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ روس کے دور دراز علاقوں کو ہدف بنانے والی ایک محدود پیمانے کی متحرک بھرتی کا حصہ ہوسکتی ہے۔
روس میں پارلیمانی انتخابات 18 سے 20 ستمبر تک ہونے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ نئی بھرتی بڑے مرکزی شہروں میں نہیں ہوگی، تاہم روسی حکام کے لیے اسے مکمل طور پر خفیہ رکھنا مشکل ہوگا۔
دوسری جانب روسی افواج مشرقی یوکرین کے صنعتی علاقے ڈونباس کے باقی ماندہ حصے پر قبضے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ اسٹریٹجک شہر کوستیانتینیوکا کے اطراف لڑائی کے دوران روسی فوجیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے جنوب مشرقی یوکرین میں اپنی فوج کی حالیہ پیش قدمی کا بھی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2026 میں روس کے زیر قبضہ اور یوکرینی افواج کے ذریعے دوبارہ حاصل کیے گئے علاقوں کا رقبہ تقریباً برابر ہوگا۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ روس بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کررہا ہے اور سالانہ 1,300 میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرین کو 2026 میں 264 امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز ملنے کی توقع ہے، جو 2025 کے 364 اور 2023 کے 675 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق یوکرین کو رواں سال دفاعی اخراجات کے لیے 27 ارب ڈالر کے مالیاتی خلا کا سامنا ہے، جبکہ 2027 کے آغاز کے لیے کم از کم 8 ارب ڈالر اور فوجی تنخواہوں سمیت دیگر اخراجات کے لیے مزید تقریباً 20 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔


Comments