پاکستان کا سرکاری تجارتی ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے مقامی اے آئی پلیٹ فارم تیار کرنے کا منصوبہ
- وزیر تجارت سے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے نمائندوں اور اسکائی 47 کی انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتیں
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کے لیے مربوط، محفوظ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ڈیجیٹل نظام تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
جمعہ کو جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ تجارت جام کمال خان سے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور اسکائی 47 کے نمائندوں کی ملاقاتیں ہوئیں.
ملاقاتوں میں سرکاری ڈیٹا کو قومی اثاثہ قرار دینے، پاکستان کے خودمختار کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، محفوظ ڈیٹا کے تبادلے کو یقینی بنانے اور تجارت و برآمدات سے متعلق شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے استفادہ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
جام کمال نے کہا کہ وزارتِ تجارت کے پاس ہزاروں ٹیرف اور مصنوعات کی تفصیلات، برآمد کنندگان، بین الاقوامی منڈیوں، تجارتی اداروں، چیمبرز آف کامرس، کاروباری انجمنوں اور بیرون ملک تجارتی مشنز سے متعلق وسیع معلومات موجود ہیں، ان معلومات کو معیاری بنا کر مربوط کیا جائے اور مجاز صارفین کے لیے محفوظ اور فیصلہ سازی میں معاون فارمیٹس میں باآسانی دستیاب بنایا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی ڈیٹا ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے۔ اسے محفوظ رکھنے، مناسب انداز میں درجہ بند کرنے اور برآمد کنندگان، کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وزارت کے مختلف شعبوں، منسلک محکموں، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، چیمبرز اور تجارتی انجمنوں کے علاوہ 55 سے زائد ممالک میں خدمات انجام دینے والے پاکستان کے تجارتی افسران کو باہم مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجارت سے متعلق سرگرمیوں اور مارکیٹ انٹیلی جنس کا یکساں منظرنامہ فراہم کرنے کے لیے وزارت کے ڈیجیٹل پورٹلز کے درمیان زیادہ سے زیادہ انضمام پر بھی زور دیا۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے وفاقی وزیر کو ڈیٹا گورننس، ڈیٹا کے تبادلے، انٹرپرائز آرکیٹیکچر اور کلاؤڈ کے استعمال سے متعلق ابھرتے ہوئے قومی فریم ورک پر بریفنگ دی۔ ملاقات میں حکومتی ڈیٹا کو اوپن، شیئرڈ، محدود اور ذاتی شناخت سے متعلق معلومات جیسی مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کرنے پر غور کیا گیا جبکہ ڈیٹا کی ملکیت اور کنٹرول متعلقہ وزارتوں اور سرکاری اداروں کے پاس برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری محکموں کو مکمل ڈیٹا سیٹس منتقل کرنے کے بجائے صرف کسی مخصوص مقصد کے لیے درکار معلومات ہی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنی چاہئیں۔ مجوزہ ڈیٹا ایکسچینج نظام محفوظ، معیاری اور قابلِ سراغ بین المحکمہ جاتی رسائی کو ممکن بنائے گا جبکہ خفیہ اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام بھی یقینی بنائے گا۔
شرکا نے قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کی تشکیل پر بھی غور کیا جس کے تحت وفاقی و صوبائی حکومتوں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے اشتراک سے مختلف شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے الگ الگ روڈ میپس تیار کیے جاسکیں گے۔
دریں اثنا اسکائی 47 کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی ڈیٹا سینٹر کی استعداد، خودمختار کلاؤڈ سروسز، سائبر سکیورٹی، ڈیزاسٹر ریکوری اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اسکائی 47 کی ٹیم نے وفاقی وزیر کو اپنے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور پاکستان میں محفوظ اور قابلِ اعتماد ہوسٹنگ کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ جدید ڈیٹا سینٹرز بین الاقوامی معیار کے مطابق انتہائی قابلِ اعتماد خدمات فراہم کرسکتے ہیں جبکہ متعدد چھوٹی اور منتشر محکمانہ سہولیات سے وابستہ اخراجات اور سکیورٹی خطرات میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔
ملاقات میں توانائی کی بچت کرنے والے کولنگ سسٹمز، ذہین ڈیٹا اسٹوریج، میٹا ڈیٹا مینجمنٹ، ڈیٹا فیبرک ٹیکنالوجیز اور روایتی ایپلی کیشنز، اے آئی ماڈلز اور مستقبل کی کوانٹم کمپیوٹنگ کی ضروریات کے لیے علیحدہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاکستان کو اہم قومی ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ رکھنے کے لیے مناسب مقامی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی تاکہ ڈیٹا کی خودمختاری یقینی بنانے کے ساتھ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں جدت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جاسکے۔
ملاقاتوں میں سرکاری شعبے میں ٹیکنالوجی کی خریداری کے طریقہ کار میں اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے کلاؤڈ پروکیورمنٹ کے ایسے فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت سرکاری ادارے غیر ضروری طور پر طویل اور فرسودہ طریقہ کار کے بغیر انفرااسٹرکچر، پلیٹ فارمز اور سافٹ ویئر بطور سروس حاصل کرسکیں۔
وفاقی وزیر نے اسٹارٹ اپس اور جدت طرازوں کی معاونت کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے کی غرض سے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، وزارتِ تجارت، پیپرا، آئی پی او پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی حمایت کی۔
ملاقات میں پاکستان کی ضروریات کے مطابق اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس کے قیام کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مجوزہ نیٹ ورک کے ذریعے پروڈیوسرز، برآمد کنندگان، لاجسٹکس فراہم کرنے والے اداروں، مالیاتی اداروں اور صارفین کو ڈیجیٹل طور پر باہم مربوط کیا جاسکے گا، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔


Comments