شمالی کوریا کے کم جونگ ان نے رابطے کا جواب دے دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
- وائٹ ہاؤس کے حکام اور نیویارک میں شمالی کوریا کے مشن نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ان کی جانب سے دوبارہ براہ راست سفارت کاری شروع کرنے کی کوشش کا جواب دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی ہدایت کی اور شمالی کوریا کو پرامن اور احترام کرنے والا ملک قرار دیا۔
اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کم جونگ ان نے ان کی دوبارہ رابطے کی کوشش کا جواب کیوں نہیں دیا، جس پر امریکی صدر نے کہا انہوں نے جواب دیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
وائٹ ہاؤس کے حکام اور نیویارک میں شمالی کوریا کے مشن نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ نے اتوار کو پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے مشقوں کی لاگت اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں جنوبی کوریا کے حصہ نہ لینے کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔ شمالی کوریا ان مشقوں کو جنگ کی تیاری قرار دیتا ہے۔
ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان 2018 اور 2019 میں سربراہی ملاقاتیں ہوئی تھیں، تاہم شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد رابطے منقطع ہوگئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ ان نے ہمیشہ میرے ساتھ بہت احترام سے پیش آیا اور مزید کہا کہ میں انہیں سمجھتا ہوں اور وہ مجھے سمجھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے ٹرمپ کی حالیہ پیش قدمی پر فوری ردعمل کا امکان کم ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کی دوبارہ ملاقات ممکن ہے۔
دریں اثنا، شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرلیے ہیں جبکہ چین کے ساتھ بھی اس کے قریبی روابط برقرار ہیں۔ شمالی کوریا کے فوجی یوکرین جنگ میں روس کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کم جونگ ان کے لیے ٹرمپ سے دوبارہ ملاقات عالمی سطح پر وقار اور حیثیت بڑھانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، تاہم ملاقات کا وقت اہم ہوگا۔


Comments