جیرڈ کشنر کی حماس کے نئے سربراہ سے ملاقات، غزہ امن منصوبے پر پیش رفت کی کوشش
- کشنر نے حماس سے اسلحے سے دستبرداری کے حوالے سے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے اتوار کو مصر میں حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات کی، جس کا مقصد اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے گئے غزہ امن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرنا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذاکرات سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ کشنر نے حماس سے اسلحے سے دستبرداری کے حوالے سے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا، جو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی اہم شرائط میں شامل ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق کشنر نے واضح کیا کہ غزہ دوبارہ اسرائیل کے لیے دہشت گردی کا ذریعہ نہیں بن سکتا اور حماس کو اسلحے سے دستبرداری کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
خلیل الحیہ نے مصر کے ساحلی شہر العلمین میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔ جولائی میں حماس کی قیادت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا بیرونِ ملک دورہ ہے۔
حماس نے مذاکرات کے بعد امن منصوبے سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ثالثوں اور ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو روڈ میپ منظور کرنے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ٹائم لائن طے کرنے پر آمادہ کریں۔
مصر، قطر اور ترکیہ سمیت دیگر ثالث ممالک اور پاکستان، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا نے اسرائیل کی جانب سے منصوبہ مسترد کیے جانے کی مذمت کی۔
دریں اثنا، اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ غزہ سول ڈیفنس کے مطابق نصیرات اور خان یونس کے اطراف اسرائیلی فائرنگ اور حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔


Comments