پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی جانب سے غزہ امن منصوبہ مسترد کرنے پر اسرائیل کی مذمت
- پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عمل درآمد کے لیے روڈ میپ کو مسترد کرنا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت جامع منصوبے کی براہ راست نفی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ مؤقف منصوبے پر عمل درآمد کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے عالمی کوششوں کو بنیادی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔
وزرائے خارجہ نے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنے، علاقے میں سلامتی و استحکام یقینی بنانے، تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع کرنے اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت و ریاست کے قیام کی بنیاد پر دیرپا امن کے لیے جامع منصوبے پر فوری اور مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار یا اسے روکنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ اور جامع امن صرف دو ریاستی حل اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
بیان کے مطابق روڈ میپ فلسطینی دھڑوں نے قبول کیا ہے اور یہ مصر، قطر، ترکیہ، امریکا اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ نمائندے سمیت ثالثوں کی طویل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
منصوبے میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، ہتھیاروں کی تلفی، اسرائیلی افواج کا انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، غزہ کا انتظام قومی کمیٹی کے حوالے کرنا اور علاقے کی تعمیر نو شامل ہے۔
آٹھوں ممالک نے بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی حمایت اور فعال تعاون کے ساتھ جامع منصوبے کی سالمیت برقرار رکھنے اور کسی بھی فریق کو اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ منصوبے کو مسلسل مسترد کرنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا عمل درآمد میں تاخیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔


Comments