امریکا کا نیتن یاہو سے فلسطینی گاؤں میں آبادکاروں کے محاصرے کی مذمت کا مطالبہ
- مقبوضہ مغربی کنارے کے قصرہ میں آبادکاروں کا تقریباً ایک ہفتے سے گھروں کا محاصرہ، فلسطینی خاندان علاقے میں محصور
امریکی اور اسرائیلی حکام نے جمعے کو بتایا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو فلسطینی گاؤں میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے کیے گئے محاصرے کی سرِعام مذمت کریں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا جب آبادکاروں نے فلسطینی رہائشیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک نیا خیمہ نصب کیا، تاہم اسرائیلی فوجیوں کی آمد کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے قصرہ میں آبادکار تقریباً ایک ہفتے سے فلسطینیوں کے گھروں کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث فلسطینی ایک محدود علاقے میں محصور ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آبادکار منظم انداز میں مزید زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اس علاقے کا رقبہ مزید سکڑ رہا ہے جہاں فلسطینی اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اس محاصرے پر امریکا کی جانب سے بھی سرِعام تنقید کی گئی ہے۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی، جو مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے مضبوط حامی ہیں، نے جمعرات کو فلسطینی گھر کا محاصرہ کرنے والے آبادکاروں کو ’’اسرائیلی دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔
ایک امریکی اور ایک اسرائیلی عہدیدار نے جمعے کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے حکام نیتن یاہو پر زور دے رہے ہیں کہ وہ محاصرے کی سرِعام مذمت کریں۔
دونوں عہدیداروں نے حساس نوعیت کے مذاکرات کے بارے میں بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن کو جب معلوم ہوا کہ محاصرے کا نشانہ بننے والے گھروں میں ایک فلسطینی نژاد امریکی شہری کا گھر بھی شامل ہے تو اس نے احتجاج شروع کیا۔
نیتن یاہو نے قصرہ میں جاری محاصرے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے بھی تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
’آبادکار اب بھی یہاں موجود ہیں‘
مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں گزشتہ تین برس کے دوران اضافہ ہوا ہے۔
انتخابات میں تقریباً دو ماہ باقی رہ گئے ہیں، اس لیے آبادکاروں کی مذمت کرنا نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس اقدام سے آبادکار ووٹر ناراض ہوسکتے ہیں، جن پر ان کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے بعض دھڑے انحصار کرتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو اقتدار سے محروم ہوسکتے ہیں، جبکہ سلامتی کے معاملات میں ان کی ساکھ پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے۔
گاؤں کے محاصرے میں لیے گئے تین گھروں میں سے ایک میں رہنے والی فلسطینی خاتون عائشہ حسن نے فون پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم بہت خوفزدہ ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’کچھ بھی نیا نہیں۔ چھ دن سے یہی صورتحال ہے۔۔۔ آبادکار اب بھی یہاں موجود ہیں۔‘‘
عائشہ حسن نے بتایا کہ انہوں نے صبح سویرے گھر کے نیچے آبادکاروں کو دیکھا تھا۔ انہوں نے رائٹرز کے ساتھ ایسی ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں آبادکاروں کے گروہ ان کے گھر کے نیچے گھومتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ویڈیوز انہوں نے اپنی کھڑکی سے بنائی تھیں۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تقریباً 15 فلسطینی، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، اپنے گھروں کے اندر محصور ہیں اور وہاں پانی اور بجلی کی سہولت موجود نہیں۔
ایک اور محصور گھر میں پھنسے فلسطینی رہائشی کی بنائی گئی اور رائٹرز کو موصول ہونے والی ویڈیو میں سات آبادکاروں کو ایک نیلے خیمے کے قریب کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک آبادکار قریبی گاؤں کی جانب پتھر پھینکتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ اسی دوران ایک اور آبادکار کرسیاں لے کر وہاں پہنچتا ہے۔
بعد ازاں اسرائیلی فوج کی گاڑیاں اور اہلکار وہاں پہنچے، جس کے بعد ویڈیو میں خیمہ زمین پر گرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا، ’’اسرائیلی شہریوں نے قصرہ کے علاقے میں ایک خیمہ نصب کیا تھا، جسے ہٹانے کے لیے آئی ڈی ایف کے اہلکاروں نے کارروائی کی اور اس دوران مقامی رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔‘‘ یہ بیان اس واقعے کے ایک روز بعد سامنے آیا جب درجنوں اسرائیلی فوجی قصرہ میں داخل ہوئے اور گاؤں کے متعدد گھروں پر قبضہ کرلیا۔
نیتن یاہو کی حکومت، جو اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت سمجھی جاتی ہے، 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تیزی سے توسیع کی سرکردہ حامی رہی ہے۔ اسرائیل نے اس علاقے میں درجنوں نئی بستیاں اور آبادکاروں کی چوکیوں قائم کی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آبادکار قصرہ اور قریبی گاؤں جلّود کے مضافات میں املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کوشش اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت دونوں علاقوں کے درمیان موجود زمین پر قبضہ کرکے اسے جنوب میں آبادکاروں کی چوکیوں اور مغرب میں بڑی بستیوں سے ملانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وردی پوش اہلکار آبادکاروں کے ساتھ یہودی عبادت میں شریک ہوئے
محاصرہ ہفتے کے اختتام پر اس وقت شروع ہوا جب آبادکاروں نے تینوں گھروں کی جانب جانے والی سڑک بند کردی اور ان کے سامنے کے صحن میں ایک خیمہ نصب کرکے کسی کو اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس سے قبل وہ ان گھروں کی بجلی اور پانی کی فراہمی بھی منقطع کرچکے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے رہائشیوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جمعرات کی صبح سے قصرہ میں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں کئی اسرائیلی افراد کو سبز فوجی وردی میں خیمے کے اندر آبادکاروں کے ساتھ صبح کی یہودی عبادت میں شریک ہوتے دیکھا گیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی اور 5 لاکھ آبادکار رہتے ہیں۔ اسرائیلی بستیوں کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ کے مطابق مغربی کنارے میں تقریباً 146 یہودی بستیاں اور 390 چھوٹی آبادکار چوکییاں قائم ہیں۔


Comments