امریکہ، ایران کے متضاد دعوے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود
- جمعرات کو مجموعی طور پر 9 بحری جہاز آبنائے سے گزرے، کپلر
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے دونوں ممالک کے متضاد دعووں کی وجہ سے ہفتے کے آخر میں وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت ماہانہ اوسط سے کم ہوگئی۔
ایران کی نیم فوجی فورس بسیج کے حال ہی میں مقرر کیے گئے سربراہ نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے اور جنگ بندی مذاکرات میں تعطل کے باعث تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھائے گا۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے کموڈیٹی لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ ہوا تاہم یہ اگست کے دوران اب تک یومیہ اوسط 12 جہازوں سے کم رہی۔
کپلر کے مطابق جمعرات کو مجموعی طور پر 9 بحری جہاز آبنائے سے گزرے جو ایک روز قبل کے 5 جہازوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
ان 9 جہازوں میں 5 خلیج میں داخل ہونے والے جب کہ 4 خلیجِ عمان کی جانب جانے والے جہاز شامل تھے جن میں زیادہ تر نے ایرانی بحری راستہ اختیار کیا۔
بحری جہازوں کی آمدورفت کو بدستور خطرات کا سامنا رہا۔
ابوظبی نیشنل آئل کمپنی نے کہا کہ جمعرات کی شام آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کے دو بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ متحدہ عرب امارات نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔
دریں اثنا کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو 19 کموڈیٹی بردار بحری جہازوں نے اپنے ٹرانسپونڈرز آن رکھتے ہوئے آبنائے باب المندب سے گزرے جو ایک روز قبل کے 20 جہازوں کے مقابلے میں تقریباً مستحکم تعداد ہے۔
کچھ بحری جہاز ممکنہ طور پر اہم آبی گزرگاہوں سے ٹرانسپونڈرز بند کرکے گزر رہے ہیں، تاہم ایسے جہازوں کو ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔


Comments