BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Increased By (0.28%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.16 Decreased By ▼ -1.57 (-2.63%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.23 (0.85%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 13.11 Increased By ▲ 0.27 (2.1%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.66 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.56 Increased By ▲ 0.57 (0.58%)
FCCL 58.06 Increased By ▲ 0.40 (0.69%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.03 (0.19%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 338.16 Increased By ▲ 4.45 (1.33%)
HUBC 213.36 Increased By ▲ 1.93 (0.91%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.06 (0.57%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.05 (-0.67%)
LOTCHEM 27.67 Decreased By ▼ -0.32 (-1.14%)
MLCF 102.75 Increased By ▲ 2.10 (2.09%)
OGDC 318.92 Decreased By ▼ -1.37 (-0.43%)
PAEL 43.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.05%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 1.27 (0.47%)
PPL 229.45 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 70.80 Decreased By ▼ -0.22 (-0.31%)
SNGP 104.58 Increased By ▲ 2.36 (2.31%)
SSGC 27.41 Increased By ▲ 0.73 (2.74%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.93%)
TPLP 15.76 Increased By ▲ 0.65 (4.3%)
TRG 60.29 Increased By ▲ 0.45 (0.75%)
UNITY 11.72 Decreased By ▼ -0.33 (-2.74%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)
دنیا

ایران، امریکا جنگ بندی میں توسیع پر مذاکرات نہیں کر رہے، ایرانی عہدیدار

  • ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کی جانب سے یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ پیش رفت ہوئی کہ تہران اور واشنگٹن نے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی ذرائع نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، کیونکہ تہران کے نقطۂ نظر سے معاہدے کے نفاذ کی کوئی تاریخ مقرر ہی نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس میں توسیع کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔

ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن نے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا ہے۔

معاہدے میں ’’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو کہا تھا کہ معاہدہ ’’ختم‘‘ ہوچکا ہے، جبکہ ایک ہفتے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے اسے ’’معطل‘‘ قرار دے دیا تھا۔

ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، ’’جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کیونکہ ایران کے نقطۂ نظر سے ایسا کوئی عرصہ شروع ہی نہیں ہوا جس میں توسیع کی جاسکے۔ امریکا نے عبوری معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹے بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد اس سے دستبردار ہوگیا۔‘‘

معاہدے میں 60 روزہ مدت سے مراد ایک قابلِ توسیع مدت تھی، جس کے دوران ایران اور امریکا کو تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور ایران پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنا تھا۔

اس سے قبل جنگ بندی کے ساتھ متعدد شرائط پوری کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا تھا، جن میں لبنان میں جنگ بندی، خلیج میں آزادانہ آمدورفت اور ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ دینا شامل تھا۔ ان شرائط کو مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخلے کے لیے ضروری سمجھا گیا تھا۔

ایرانی ذریعے نے مزید کہا، ’’ثالثوں کے ذریعے زیرِ بحث معاملات میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا عبوری معاہدے میں دوبارہ شامل ہو اور اس کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے ایک مدت کا تعین کرے۔ اس معاملے پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘‘

Comments

200 حروف