جنکو ملازمین کی پنشن، نیپرا کی تجویز مسترد
حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت جنکو ملازمین اور پنشنرز کی پنشن کے اخراجات صارفین پر ڈالنے کے بجائے ان کے اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے پورے کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے جنکو پنشنرز کو متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے 10 ستمبر 2020 کے اجلاس میں 1,796 میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے جنکو پاور پلانٹس فوری طور پر بند کرنے اور مزید 2,475 میگاواٹ صلاحیت کے پلانٹس کو ستمبر 2022 تک مرحلہ وار بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فوری بند کیے گئے پلانٹس کے جنریشن لائسنس سے اخراج کے بعد ان کا کیپیسٹی پرچیز پرائس (سی سی پی) بھی ختم ہوگیا، جو ان پلانٹس کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کا بنیادی ذریعہ تھا۔
بعد ازاں 2021 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے تجویز پر غور کیا کہ جنکو کے 2,368 پنشنرز اور 1,753 ملازمین کو ڈسکوز یا واپڈا میں ایڈجسٹ کیا جائے اور ان کی پنشن متعلقہ ادارے ادا کریں۔ اس اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ ڈسکوز اپنے ٹیرف کے ذریعے نیپرا سے حاصل کرتیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے 2020 کے فیصلے کے تحت باقی ماندہ جنکو پاور پلانٹس بھی 2024 میں بند کر دیے گئے، جس کے بعد پرانے اور ناکارہ پلانٹس کو فروخت کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جنکوز کو ایک بار پھر اضافی افرادی قوت اور کیپیسٹی پرچیز پرائس کے خاتمے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم آفس کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے 4 فروری 2025 کو فیصلہ کیا کہ جنکو کی اضافی افرادی قوت کو ڈسکوز میں موجود خالی آسامیوں پر ایڈجسٹ کیا جائے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد 3,499 جنکو ملازمین کو مختلف ڈسکوز میں ایڈجسٹ کیا جا چکا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت 4,990 جنکو پنشنرز قریبی ڈسکوز سے ماہانہ پنشن وصول کر رہے تھے، جبکہ مزید 116 پنشنرز براہ راست اپنے متعلقہ جنکوز سے پنشن لے رہے تھے۔ یوں مجموعی طور پر 5,106 پنشنرز کو ڈسکوز میں ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی گئی۔
ذرائع کے مطابق وزارت قانون و انصاف نے تجویز کی قانونی طور پر حمایت کی، جبکہ وزارت خزانہ نے اصولی منظوری دیتے ہوئے جنکو پلانٹس، مشینری اور دیگر اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال کی تفصیلات طلب کیں۔
نیپرا نے بھی معاملے کو پالیسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے سفارش کی تھی کہ جنکو اثاثوں کی فروخت سے حاصل رقم ڈسکوز کو منتقل کرکے الگ پنشن فنڈ قائم کیا جائے۔ فنڈ سے حاصل آمدنی کو پنشن واجبات پورے کرنے اور صارفین کے ٹیرف پر اثر کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
تاہم پاور ڈویژن نے موقف اختیار کیا کہ جنکو اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم محدود اور پنشن واجبات طویل مدتی نوعیت کے ہیں، جبکہ پنشن اخراجات پہلے ہی ٹیرف کے ذریعے ایڈجسٹ کیے جا رہے ہیں۔ صرف ادائیگی کی ذمہ داری جنکوز سے متعلقہ ڈسکوز کو منتقل ہوگی۔
تفصیلی غور کے بعد ای سی سی نے پاور ڈویژن کی تجویز منظور کرلی، جس کی بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی توثیق کر دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments