BR100 Decreased By (-0.06%)
BR30 Increased By (1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 59.84 Increased By ▲ 0.82 (1.39%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 35.28 Decreased By ▼ -1.18 (-3.24%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 1.19 (9.97%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.12 (-0.66%)
DGKC 217.01 Decreased By ▼ -1.02 (-0.47%)
FABL 99.95 Decreased By ▼ -0.45 (-0.45%)
FCCL 57.97 Increased By ▲ 0.61 (1.06%)
FFL 16.42 Decreased By ▼ -0.16 (-0.97%)
GGL 24.36 Decreased By ▼ -0.26 (-1.06%)
HBL 326.21 Increased By ▲ 1.59 (0.49%)
HUBC 213.42 Decreased By ▼ -12.22 (-5.42%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.48 Increased By ▲ 0.16 (2.19%)
LOTCHEM 27.75 Increased By ▲ 0.61 (2.25%)
MLCF 102.98 Increased By ▲ 0.91 (0.89%)
OGDC 323.78 Increased By ▲ 4.59 (1.44%)
PAEL 43.90 Increased By ▲ 0.02 (0.05%)
PIBTL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
PIOC 276.19 Increased By ▲ 1.35 (0.49%)
PPL 229.47 Increased By ▲ 7.92 (3.57%)
PRL 70.11 Increased By ▲ 6.36 (9.98%)
SNGP 103.66 Decreased By ▼ -0.13 (-0.13%)
SSGC 27.11 Decreased By ▼ -0.17 (-0.62%)
TELE 8.72 Increased By ▲ 0.10 (1.16%)
TPLP 15.68 Increased By ▲ 0.70 (4.67%)
TRG 61.13 Decreased By ▼ -2.16 (-3.41%)
UNITY 12.04 Increased By ▲ 0.53 (4.6%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

او آئی سی سی آئی ارکان کی 10 سال میں 23 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری

  • یہ انکشافات او آئی سی سی آئی کی ممبرز کنٹری بیوشن ٹو دی اکانومی 2025 کی رپورٹ میں سامنے آئے
شائع اپ ڈیٹ

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) سے وابستہ غیر ملکی کمپنیوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 23 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جو اسی مدت کے دوران ملک کی مجموعی خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے 21 ارب ڈالر کے حجم سے زیادہ ہے۔

یہ انکشافات او آئی سی سی آئی کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی رپورٹ ممبرز کنٹری بیوشن ٹو دی اکانومی 2025 میں سامنے آئے، جن میں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے اپنے آپریشنز کو وسعت دینے، منافع کو دوبارہ سرمایہ کاری میں لگانے اور پاکستان کی طویل مدتی اقتصادی ترقی میں معاونت کے عزم کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے مالی سال 2025 میں مجموعی طور پر 13.1 ٹریلین روپے کی مجموعی آمدنی (گروس ریونیو) حاصل کی، 42 ٹریلین روپے مالیت کے کل اثاثے رکھے، کیپٹل ایکسپینڈر (کیپیکس) میں 615 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی اور سرکاری ٹیکسوں و لیویز کی مد میں 3.2 ٹریلین روپے کا حصہ ڈالا۔

رپورٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر درج او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں کی لچک کو بھی نمایاں کیا گیا۔ سال 2021 سے 2025 کے دوران روپے کے لحاظ سے ان کے ٹیکس سے پہلے کے منافع (پی بی ٹی) کی کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (سی اے جی آر) اعتدال کے ساتھ 26 فیصد رہی، جبکہ اس سے پچھلی رپورٹنگ مدت میں یہ شرح 35 فیصد تھی، جس کی بنیادی وجوہات زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ اور ہائر بیس ایفیکٹ تھیں۔

ڈالر کے لحاظ سے پی بی ٹی میں 11 فیصد کی سی اے جی آر سے نمو ہوئی، جبکہ ٹرن اوور میں روپے کے لحاظ سے 21 فیصد اور ڈالر کے لحاظ سے 6 فیصد سی اے جی آر ریکارڈ کی گئی۔ اس تجزیے میں پی ایس ایکس پر درج او آئی سی سی آئی کی 51 رکن کمپنیاں شامل ہیں، جو کہ چیلنجنگ معاشی ماحول کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری کے حامل کاروباروں کی منافع بخش اور آپریشنل لچک کو ظاہر کرتی ہیں۔

رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ او آئی سی سی آئی کے ارکان کا معیشت کے کلیدی شعبوں میں وسیع دائرہ کار ہے۔ تیل، گیس اور توانائی کے شعبے نے او آئی سی سی آئی کے ارکان کی طرف سے ادا کردہ کل سرکاری لیویز کا 36 فیصد حصہ ڈالا، جبکہ بینکنگ، انشورنس، فنانس اور لیزنگ کا شعبہ کل اثاثوں کا 75.6 فیصد اور کل ٹرن اوور کا 25 فیصد رہا۔

ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے نے کل کیپیکس میں 33 فیصد حصہ ڈایا، جبکہ خوراک و صارف بخش مصنوعات، کیمیکلز، ادویات و صحت، آٹوموبائل، انجینئرنگ، شپنگ اور ایئر لائنز کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں نے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہا کہ ان نتائج سے پاکستان کے طویل مدتی اقتصادی پوٹینشل پر رکن کمپنیوں کے اعتماد کی ایک بار پھر تصدیق ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین نے چیلنجنگ معاشی حالات کے باوجود مسلسل ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری کی ہے، اپنے کاروبار کو وسعت دی اور قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا جاری رکھا ہے۔

عبد العلیم کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 23 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل پر اعتماد کا ایک مضبوط اظہار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر پالیسی تسلسل، ریگولیٹری پیشگوئی اور کاروبار دوست ماحول غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اقتصادی ترقی، برآمدات، جدت اور روزگار کے شعبوں میں اس سے بھی بڑا کردار ادا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Comments

200 حروف