زیر التوا مسائل کے حل کیلئے ایف بی آر اور کاروباری اداروں کی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ
- ایف بی آر اور کاروباری برادری نے باہمی تعاون پر مبنی ایک نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ کاروباری طبقے کی جائز شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے
وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کو کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات کی، جس میں کاروباری برادری کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال اور ان کے حل پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات میں کاروباری سہولت کاری کو بہتر بنانے، ہراساں کیے جانے سے متعلق شکایات کے ازالے اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ معاملات میں اعلیٰ سطح کی شفافیت اور دیانت داری یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ کاروباری رہنماؤں نے اپنے درپیش اہم مسائل سے آگاہ کیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، زیر التوا ریفنڈز کی ادائیگی تیز کرنے اور ٹیکس سے متعلق ضوابط کو آسان بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران ٹیکس حکام کو ٹیکس دہندگان کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ یقین دہانی کرائی گئی کہ جائز کاروبار کرنے والوں کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شرکا کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل سنے گئے اور موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں اضافے کے ذریعے شفافیت بڑھانے اور کراچی میں آپریشنز ممبران اور ان کے سینئر افسران کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔
ایف بی آر اور کاروباری برادری نے باہمی تعاون پر مبنی ایک نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ کاروباری طبقے کی جائز شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت اور کاروباری نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو کام کے طریقہ کار کو بہتر بنانے، زیر التوا معاملات جلد حل کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنانے میں کردار ادا کریں گی۔
ایف پی سی سی آئی اور پی بی سی کے وفود نے وزیراعظم کے فعال اقدام کو سراہا اور چیئرمین ایف بی آر کا تعمیری اور حل پر مبنی گفتگو پر شکریہ ادا کیا۔ وفود نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات کاروباری اعتماد میں اضافہ کریں گے اور ملکی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments