ایس آئی ایف سی کا لیز تنازع حل : بلوچستان میں 200 ملین ڈالر کی معدنی سرمایہ کاری کا راستہ صاف
- اعلامیے کے مطابق ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے لیز مسائل حل، معاہدہ طے، منصوبہ عملدرآمد مرحلے میں داخل ہوگیا
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے خضدار بلوچستان میں بی رائٹ لیڈ زنک (بی ایل زیڈ) پروجیکٹ سے جڑے دیرینہ مسائل کے حل میں کامیابی سے سہولت کاری فراہم کی ہے، جس سے 200 ملین ڈالر کی حکمتِ عملی سے اہم سرمایہ کاری کا راستہ کھل گیا ہے اور پاکستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے عزم کو تقویت ملی ہے۔
منگل کو جاری اعلامیے کے مطابق یہ پروجیکٹ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) بولان مائننگ انٹرپرائزز (بی ایم ای) کے ساتھ مشترکہ شراکت داری (جوائنٹ وینچر) کے تحت تیار کر رہی ہے، جس میں پی پی ایل مقررہ آپریٹر کے طور پر 50 فیصد ورکنگ انٹریسٹ (فعال شراکت داری) رکھتی ہے۔بلوچستان کے معدنیات سے مالا مال ضلع خضدار میں واقع بی زیڈ ایل پروجیکٹ پاکستان کے بہترین مائننگ منصوبوں میں سے ایک ہے، جس کے تخمینہ شدہ ذخائر 69 ملین (6.9 کروڑ) ٹن ہیں اور اس کی متوقع مائن لائف (معدنیات نکالنے کی مدت) 34 سال ہے۔ اس پروجیکٹ سے سالانہ 150 سے 230 ملین ڈالر کی آمدنی کی توقع ہے، جبکہ یہ بلوچستان میں معدنی برآمدات، روزگار کی فراہمی اور معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔
اعلامیے کے مطابق ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے ذریعے لیز سے متعلق طویل عرصے سے التوا کا شکار مسائل کامیابی سے حل کر لیے گئے ہیں، جس سے منصوبے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ پاکستان منرل فورم 2025 کے دوران آپریشنل معاہدے پر دستخط کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا گیا، جو کہ منصوبے پر عملدرآمد کے مرحلے کے آغاز کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس پروجیکٹ کی کامیاب پیشرفت رکاوٹوں کو دور کرنے، حکمتِ عملی پر مبنی سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور ملک کے وسیع معدنی وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی کو تیز کرکے سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ کامیابی پاکستان کی غیر فعال (غیر استعمال شدہ) معدنی صلاحیت کو اجاگر کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنے اور اعلیٰ اثرات کے حامل معدنی شعبے کی سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار معاشی نمو کو فروغ دینے میں ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار کو نمایاں کرتی ہے۔


Comments