BR100 Decreased By (-0.52%)
BR30 Decreased By (-0.78%)
KSE100 Decreased By (-0.36%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 57.17 Decreased By ▼ -0.35 (-0.61%)
BIPL 27.45 Decreased By ▼ -0.17 (-0.62%)
BOP 34.05 Decreased By ▼ -0.56 (-1.62%)
CNERGY 11.04 Increased By ▲ 0.28 (2.6%)
DFML 18.38 Decreased By ▼ -0.03 (-0.16%)
DGKC 214.00 Increased By ▲ 0.13 (0.06%)
FABL 101.12 Decreased By ▼ -0.35 (-0.34%)
FCCL 55.75 Decreased By ▼ -0.72 (-1.28%)
FFL 16.25 Decreased By ▼ -0.60 (-3.56%)
GGL 25.10 Decreased By ▼ -0.66 (-2.56%)
HBL 306.51 Decreased By ▼ -1.67 (-0.54%)
HUBC 223.12 Decreased By ▼ -1.27 (-0.57%)
HUMNL 10.49 Decreased By ▼ -0.23 (-2.15%)
KEL 7.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.22 (0.79%)
MLCF 97.42 Increased By ▲ 0.86 (0.89%)
OGDC 320.70 Decreased By ▼ -2.75 (-0.85%)
PAEL 43.31 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.79 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
PIOC 286.80 Decreased By ▼ -9.09 (-3.07%)
PPL 223.45 Decreased By ▼ -1.22 (-0.54%)
PRL 59.38 Increased By ▲ 3.87 (6.97%)
SNGP 104.31 Decreased By ▼ -0.36 (-0.34%)
SSGC 25.98 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.12 (-1.39%)
TPLP 12.73 Decreased By ▼ -0.45 (-3.41%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.21 (0.35%)
UNITY 10.16 Decreased By ▼ -0.08 (-0.78%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.03 (-2.38%)

کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی کی جانب سے اپنے مجوزہ 1 ارب ڈالر کے پن بجلی منصوبے کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری ریگولیٹری تعطل پر کی جانے والی شکایت کو محض ایک سرمایہ کار اور ریگولیٹر کے درمیان تنازع نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ معاملہ پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول کے بارے میں کہیں زیادہ اہم سوال اٹھاتا ہے: جب ایک ایسا سرمایہ کار جو سرکاری طریقہ کار کو پورا کرنے میں تقریباً ایک دہائی صرف کر چکا ہو، اب بھی فیصلے کے انتظار میں ہو تو ملک کیا پیغام دیتا ہے؟

کمپنی کے مطابق موجودہ پالیسی فریم ورک کے تحت درکار تمام بڑے مراحل مکمل کیے جاچکے ہیں۔ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، فیزبیلٹی اسٹڈیز کی گئیں، لیٹر آف انٹیںٹ حاصل کیے گئے، منصوبوں کو انڈیکیٹو جنریشن کیپسٹی ایکسپینشن پلان میں شامل کیا گیا اور نیپرا سے جنریشن لائسنس بھی حاصل کر لیا گیا۔ اس کے باوجود ٹیرف کی سماعت کے تقریباً تین سال گزرنے کے بعد بھی فیصلہ زیرِ التوا ہے حالانکہ ریگولیٹر کے اپنے اپیلیٹ ٹریبونل نے بھی ہدایت دے رکھی ہے کہ اس معاملے کا فیصلہ کیا جائے۔

قطع نظر اس کے کہ حقیقت کچھ بھی ہو یہ معاملہ ان دو پن بجلی منصوبوں کی خوبیوں اور خامیوں سے کہیں بڑا ہے۔ پاکستان کے توانائی شعبے میں اس وقت سے نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں جب یہ منصوبے پہلی بار پیش کیے گئے تھے۔ بجلی کی طلب میں وہ اضافہ نہیں ہوسکا جس کی توقع کی جا رہی تھی، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور آج ملک قلت کے بجائے اضافی پیداواری صلاحیت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں پالیسی سازوں کے لیے یہ بالکل جائز ہے کہ وہ سرمایہ کاری کی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور مستقبل کے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی ترتیب اور ترجیح پر دوبارہ غور کریں۔

تاہم جس چیز کا جواز پیش کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے وہ یہ ہے کہ ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کو پالیسی فیصلے کا متبادل بنا دیا جائے۔ اگر حالات تبدیل ہو چکے ہیں تو انہیں شفاف انداز میں بیان کیا جانا چاہیے، اگر یہ منصوبے اب ملک کے کم ترین لاگت والے توسیعی منصوبے کے مطابق موزوں نہیں رہے تو سرمایہ کار پالیسی اور معاشی بنیادوں پر بروقت وضاحت کے مستحق ہیں۔ دوسری جانب اگر یہ منصوبے اب بھی قابلِ عمل ہیں لیکن ان کے تجارتی آغاز کو مؤخر کرنے کی ضرورت ہے تو اس بارے میں بھی ایک منظم اور قابلِ پیش گوئی طریقہ کار کے ذریعے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ لامحدود خاموشی نہ تو سرمایہ کار کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے مفاد میں۔

ریگولیٹری یقین دہانی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں ریگولیٹری منظوری ہی دی جائے گی۔ سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ منصوبوں کو منظور کیا جا سکتا ہے، ان میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں یا انہیں مسترد بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ایسے غیر معینہ عمل کو مناسب طور پر شامل نہیں کر سکتے جس میں قانونی مدتِ کار اور مکمل سماعتوں کے باوجود درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں۔ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال بالآخر خود ایک بہت بڑا مالی بوجھ بن جاتی ہے۔

اس معاملے کے اثرات صرف ایک کوریائی سرمایہ کار تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان بارہا یہ عزم ظاہر کرچکا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اپنے توانائی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ یہ اہداف صرف سرمایہ کاری کانفرنسوں، روڈ شوز یا مفاہمتی یادداشتِ پر انحصار نہیں کرسکتے۔ ان کے لیے اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ ادارے ایسے فیصلے فراہم کریں جو بروقت، شفاف اور قابلِ پیش گوئی ہوں۔ کسی ملک کے سرمایہ کاری ماحول کی تشکیل صرف مالی مراعات سے نہیں ہوتی بلکہ ریگولیٹری اداروں کے طرزِ عمل سے بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔

یہ بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور جنوبی کوریا فعال طور پر جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کے لئے کوششیں کررہے ہیں جبکہ دونوں حکومتیں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرچکی ہیں۔ یہ وسیع تر تعلق اس بات کیلئے اضافی محرک فراہم کرنا چاہیے کہ زیرِ التوا سرمایہ کاری سے متعلق معاملات کو قائم شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے، بجائے اس کے کہ انہیں غیر معینہ مدت تک لٹکنے دیا جائے۔

ان میں سے کسی بھی بات کو پاکستان کے پاور سیکٹر کی موجودہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کی اپیل کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ طلب یا صارفین کی استطاعت کو مدنظر رکھے بغیر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا رہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کیپسٹی پیمنٹ بجلی صارفین پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ نئے منصوبوں کی منظوری میں احتیاط اور دانش مندی اب بھی انتہائی ضروری ہے لیکن احتیاط کو جمود یا فیصلہ سازی کے تعطل کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

پالیسی سازوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ دو یکساں طور پر جائز مقاصد کے درمیان توازن قائم کریں: مستقبل میں توانائی شعبے کی سرمایہ کاری میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور ساتھ ہی طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کی ساکھ کو ایک قابلِ اعتماد مقام کے طور پر محفوظ رکھنا، یہ دونوں اہداف ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں بلکہ جب ریگولیٹری ادارے اپنے مقررہ طریقہ کار کے مطابق مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں تو یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

اس لیے کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی کا یہ معاملہ ٹیرف کے ایک تاخیر شدہ فیصلے کی یاد دہانی سے کہیں بڑھ کر ہونا چاہئے۔ اسے خود ریگولیٹری طرزِ حکمرانی پر ایک وسیع تر غور و فکر کا محرک بننا چاہئے۔ پاکستان نے بجا طور پر اپنے توانائی شعبے میں اہم اصلاحات کی ہیں جن میں پاور پرچیز معاہدوں پر از سر نو مذاکرات سے لے کر مارکیٹ کے اداروں کی تنظیمِ نو تک شامل قانونی مدت کا احترام کیا جانا اور ریگولیٹری فیصلوں کا بلا تاخیر جاری کیا جانا بھی اسی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بننا چاہئے۔

لہٰذا کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی کا معاملہ صرف ایک تاخیر کا شکار ٹیرف فیصلے کی یاد دہانی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے ریگولیٹری نظامِ حکمرانی کے حوالے سے وسیع تر غور و فکر کا باعث بننا چاہیے۔پاکستان نے توانائی شعبے میں پہلے ہی اہم اصلاحات کا آغاز کیا ہے جن میں بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے لے کر مارکیٹ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل تک کے اقدامات شامل ہیں۔اس اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ قانونی مدتوں کی پابندی یقینی بنائی جائے اور ریگولیٹری فیصلے بلاوجہ تاخیر کے بغیر جاری کیے جائیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے یقین دہانی اکثر خود فیصلے جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ہر منصوبے کی منظوری کا وعدہ نہیں کرسکتا۔ البتہ وہ ایک ایسے عمل کی ضمانت ضرور دے سکتا ہے جو بروقت، شفاف اور قابلِ اعتبار ہو۔ یہ کسی بھی سنجیدہ سرمایہ کار کی کم از کم توقع ہوتی ہے اور ایک ایسا معیار ہے جس سے پیچھے ہٹنے کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف