کاروباری اعتماد بڑھ گیا، بجٹ کے حوالے سے تحفظات برقرار
- موجودہ کاروباری حالات کا اسکور 9 فیصد پوائنٹس بہتر ہو کر منفی 10 فیصد پر آگیا، گیلب سروے
گیلپ پاکستان کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ تازہ ترین بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کاروباری اعتماد میں بہتری آئی جہاں کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری حالات میں بہتری اور آئندہ ایک سال کے لیے زیادہ مضبوط توقعات کا اظہار کیا۔
یہ سروے 2 سے 7 جولائی کے دوران 527 کاروباری اداروں سے کیا گیا جن کا تعلق مینوفیکچرنگ، خدمات، تعمیرات، مالیاتی خدمات اور تھوک و پرچون تجارت کے شعبوں سے تھا۔ سروے کے نتائج کے مطابق بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے تینوں بڑے اجزا میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
موجودہ کاروباری حالات کا اسکور 9 فیصد پوائنٹس بہتر ہو کر منفی 10 فیصد پر آگیا جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ منفی 19 فیصد تھا۔
سروے کے مطابق 45 فیصد کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری حالات کو اچھا قرار دیا جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔
مستقبل کے کاروباری حالات کے اشاریے میں سب سے زیادہ بہتری ریکارڈ کی گئی جو 25 فیصد پوائنٹس بڑھ کر مثبت 12 فیصد پر پہنچ گیا اور یوں یہ مسلسل تین سہ ماہیوں کے بعد پہلی بار مثبت سطح پر آگیا۔ سروے میں 56 فیصد کاروباری اداروں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران کاروباری حالات مزید بہتر ہوں گے۔
ملک کی مجموعی سمت سے متعلق اشاریے میں بھی 12 فیصد پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی اور یہ منفی 20 فیصد تک آگیا، تاہم یہ اب بھی منفی زون میں برقرار رہا۔
گیلپ پاکستان کے مطابق کاروباری اعتماد میں آنے والی اس بہتری کی ایک وجہ بظاہر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے بعد بیرونی غیر یقینی صورتحال میں کمی اور سروے سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والی کمی بھی تھی جس نے کاروباری حلقوں کے اعتماد کو تقویت دی۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال آئی گیلانی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں کاروباری اعتماد بحال ہورہا ہے، تاہم اس بہتری کے باوجود کاروباری اشاریے اب بھی منفی سطح پر موجود ہیں۔
کاروباری اعتماد میں بہتری کے باوجود کاروباری اداروں کو اب بھی آپریشنل دباؤ کا سامنا ہے۔ افراطِ زر سب سے بڑا مسئلہ برقرار رہا جہاں 34 فیصد جواب دہندگان نے اسے وہ اہم مسئلہ قرار دیا جس کے حل کے لیے وہ حکومت سے اقدامات کے خواہاں ہیں۔
سروے کے مطابق لوڈشیڈنگ کی صورتحال بھی مزید خراب ہوئی جہاں 72 فیصد کاروباری اداروں نے بتایا کہ سروے والے دن انہیں بجلی کی بندش کا سامنا تھا۔ یہ شرح گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 15 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی جبکہ 2023 اور 2024 میں ریکارڈ کی گئی سطح سے بھی بلند تھی۔
وفاقی بجٹ 2026-27 کے بارے میں کاروباری برادری کی رائے مجموعی طور پر منفی رہی۔ سروے میں 39 فیصد جواب دہندگان نے بجٹ کو منفی قرار دیا جبکہ صرف 18 فیصد نے اسے مثبت قرار دیا۔
سروے میں شامل تقریباً 49 فیصد کاروباری اداروں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے تناظر میں آئندہ 12 ماہ کے دوران اپنے کاروباری امکانات پر ان کا اعتماد کم ہے جبکہ 36 فیصد جواب دہندگان نے اپنے مستقبل کے کاروباری امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا۔
اسی طرح 49 فیصد کاروباری اداروں کا خیال تھا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 سے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوگا جبکہ 22 فیصد نے توقع ظاہر کی کہ اس سے لاگت میں کمی آئے گی۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ بجٹ کے بعد ان کے لیے سرمایہ کاری یا کاروبار میں توسیع کے امکانات کم ہوگئے ہیں جبکہ صرف 22 فیصد نے کہا کہ بجٹ کے باعث ان کی سرمایہ کاری یا توسیع کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔
گیلپ پاکستان کے مطابق بجٹ سے متعلق نتائج خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ کاروباری اعتماد میں مجموعی بہتری کے باوجود بجٹ سے متعلق چاروں اشاریے بدستور منفی رہے۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال آئی گیلانی نے کہا کہ کاروباری اعتماد میں بحالی کے اثرات ابھی تک بجٹ کے حوالے سے نظر نہیں آئے۔ کاروباری ادارے موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانات کے بارے میں پہلے سے کچھ زیادہ پُرامید ضرور ہیں لیکن انہیں اب بھی یہ اعتماد نہیں کہ مالیاتی پالیسی ان کے حق میں کام کر رہی ہے۔


Comments