مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تجزیہ کاروں کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رہنے کی توقع
- مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس آئندہ ہفتے پیر کو ہونے کا امکان
مارکیٹ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک کی جانب سے اگلے ہفتے بنیادی پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، جس نے ملکی افراطِ زر (مہنگائی) میں بہتری اور شرح سود میں کمی کے جواز کو دھندلا دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس اگلے ہفتے پیر یعنی 27 جولائی 2026 کو متوقع ہے۔ تاہم اے کے ڈی ریسرچ اور ٹاپ لائن سیکورٹیز دونوں نے پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی نہ ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز کے ایک سروے میں 97 فیصد شرکاء نے 27 جولائی کے اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی، جبکہ بقیہ 3 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ظاہر کیا۔
اے کے ڈی سیکورٹیز کا کہنا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی انتظام اور اصلاحات کے باعث بیرونی کھاتے کی بہتر صورتحال ایک مثبت معاشی اشاریہ ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے نئے حالات بشمول آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں غیر یقینی صورتحال کا باعث بنی ہیں۔ مزید برآں رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب نے بھی مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا ہے، جس کے باعث اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کی توقع ہے۔ٹاپ لائن سیکورٹیز نے بھی اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد مارکیٹ میں شرح سود میں کمی کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن گزشتہ دو ہفتوں میں دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی نے اس امید کو متاثر کیا ہے۔
ٹاپ لائن نے خبردار کیا کہ جیو پولیٹیکل غیر یقینی اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ شرح سود میں کمی سے قبل محتاط رویہ اختیار کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ادارے کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2027 میں اوسط افراطِ زر 7.0 سے 8.0 فیصد کے درمیان رہے گا۔ دوسری جانب اے کے ڈی سیکورٹیز نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مناسب رہنے کی امید پر مالی سال 2027 کے لیے اوسط افراطِ زر 5.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔


Comments