ورلڈ کپ چیمپئن اسپین کی ٹیم جشن پریڈ سے قبل وطن واپس پہنچ گئی
- دوسرا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے والی اسپینش ٹیم کی فاتحانہ وطن واپسی پر میڈرڈ میں جشن کا سماں، لاکھوں مداح اپنے ہیروز کے استقبال کے لیے سڑکوں پر نکل آئے
نئے عالمی چیمپئن اسپین کی ٹیم پیر کو وطن واپس میڈرڈ پہنچ گئی، جہاں ملک بھر میں رات بھر جاری جشن کے بعد تقریباً دس لاکھ مداح اپنے ہیروز کے شاندار استقبال کے لیے جمع ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اسپین کے کپتان روڈری نے امریکا سے ٹیم کو وطن واپس لانے والی آئیبیریا پرواز سے اترتے ہوئے سیڑھیوں کے اوپر ورلڈ کپ کی ٹرافی بلند کرکے مداحوں کا جوش مزید بڑھا دیا۔ اسپین نے امریکا میں منعقدہ ورلڈ کپ میں دوسری عالمی فتح اپنے نام کی ہے۔
اتوار کو نیو جرسی میں کھیلے گئے فائنل میں اسپین نے فیـران ٹوریس کے اضافی وقت میں کیے گئے فیصلہ کن گول کی بدولت ارجنٹینا کو 1-0 سے شکست دی۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد فٹبال کے دیوانے ملک اسپین میں قومی فخر اور خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں اس سے قبل واحد ورلڈ کپ ٹائٹل 2010 میں جیتا گیا تھا۔
اسپین کے بہت سے کم عمر مداح اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب 16 برس قبل جنوبی افریقا میں نیدرلینڈز کے خلاف آندریس انیئستا کے اضافی وقت کے گول نے اسپین کو تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ جتوایا تھا۔
پیر کی صبح میڈرڈ کی مرکزی شاہراہ کاستیانا پر رات بھر جاری جشن کے آثار نمایاں تھے۔ سڑک پر جگہ جگہ کچرا، بیئر کے خالی ڈبے اور شیشے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔
کچھ مداح فٹ پاتھوں اور بینچوں پر مسکراتے ہوئے سو رہے تھے، جبکہ کئی دیگر لڑکھڑاتے قدموں سے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ دوسری جانب صفائی کا عملہ علی الصبح ہی رات کی فاتحانہ پریڈ کے راستے کو صاف کرنے میں مصروف تھا۔
میڈرڈ کے میئر خوسے لوئس مارٹینیز-المیڈا نے آر این ای ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”میں زیادہ نہیں سو سکا، پہلے جشن تھا پھر میچ کا دباؤ، میرے خیال میں ہم سب کے لیے نیند آنا مشکل تھا۔“
ان کے مطابق وطن واپسی پر کھلاڑیوں کا استقبال میڈرڈ کے نواح میں واقع زارزویلا پیلس میں شاہ فیلیپ ششم کریں گے، جس کے بعد وزیراعظم پیڈرو سانچیز سرکاری رہائش گاہ لا مونکلوا میں ٹیم سے ملاقات کریں گے۔
بعد ازاں ورلڈ کپ فاتح ٹیم ایک کھلی چھت والی بس میں فاتحانہ پریڈ کرے گی، جو لا مونکلوا سے شروع ہو کر سیبیلیس اسکوائر تک جائے گی۔
اس کے بعد اسی چوک میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جو ہسپانوی قومی ٹیم اور اس کے مداحوں کی فتوحات کے جشن کا روایتی مقام سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق پریڈ کے راستے میں تقریباً 10 لاکھ افراد کی موجودگی متوقع ہے، جس کے پیشِ نظر اضافی سکیورٹی اور ٹرانسپورٹ انتظامات کیے گئے ہیں۔
32 سالہ مالیاتی ماہر برونو گونزالیز ڈیل یرو سمیت بہت سے مداح، جنہوں نے رات بھر بمشکل نیند لی، ایک بار پھر جشن منانے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا، ”یہ جشن تو ہر حال میں منانا بنتا ہے۔ ورلڈ کپ ہر چار سال بعد آتا ہے اور اسپین نے تقریباً سولہ برس بعد ٹائٹل جیتا ہے، اس کامیابی کا جشن ضرور ہونا چاہیے۔“
اسپین کی خواتین کی ٹیم 2023 میں ورلڈ کپ جیت چکی تھی، یوں پہلی بار کسی ایک ملک کے پاس بیک وقت مردوں اور خواتین دونوں کے عالمی ٹائٹل آ گئے ہیں۔
اب 2030 میں اسپین اپنے ہی میدانوں پر، پرتگال اور مراکش کے ساتھ مشترکہ میزبان کی حیثیت سے، اپنے عالمی اعزاز کا دفاع کرے گا۔
’تاریخ کے عظیم ترین بادشاہ‘
اسپین کے اخبارات اپنی ٹیم کی تاریخی کامیابی بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑنے لگے۔ سیمی فائنل میں فرانس اور پھر فائنل میں ارجنٹینا کو شکست دینے کے بعد روزنامہ مارکا نے سرخی جمائی: ”ہر دور کے بادشاہ!“
اخبار نے لکھا کہ ”دوسرا ستارہ اب اسپین کی جرسی کی زینت بنے گا، کیونکہ ٹیم نے ایک بار پھر اجتماعی کھیل کا شاہکار پیش کیا۔“
تاہم جشن کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا۔ مغربی اسپین کے شہر سیوداد روڈریگو میں 13 سالہ لڑکا اس وقت ہلاک ہوگیا جب جشن منانے کے لیے مداحوں کے چڑھ جانے سے ایک فوارہ منہدم ہوگیا۔
ادھر بیونس آئرس میں شکست کے بعد ابتدا میں سناٹا چھایا رہا، پھر حقیقت کا احساس ہوتے ہی مداح آبدیدہ ہوگئے۔ ارجنٹینا کا چوتھا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹ گیا، تاہم مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے وطن واپس پہنچنے والی ٹیم کے استقبال کے لیے بھی لاکھوں افراد کی آمد متوقع ہے۔
48 ٹیموں اور پانچ ہفتوں سے زائد عرصے پر محیط توسیع شدہ ورلڈ کپ کے 104ویں اور آخری میچ تک صرف اسپین اور ارجنٹینا میدان میں باقی رہ گئے تھے۔
2022 کی عالمی چیمپئن ارجنٹینا، عظیم کھلاڑی لیونل میسی کی موجودگی کے باوجود، اسپین کی منظم اور جارحانہ ٹیم کے خلاف واضح مواقع پیدا نہ کر سکی۔
اینزو فرنانڈیز کے ریڈ کارڈ نے ارجنٹینا کو مزید مشکلات میں ڈال دیا، جس کے بعد متبادل کھلاڑی نیکو ولیمز کے پاس پر فیـران ٹوریس نے فیصلہ کن گول داغ دیا۔
میچ کے فاتح گول اسکورر ٹوریس نے کہا، ”یہ صرف میرا گول نہیں، بلکہ چار کروڑ ستر لاکھ ہسپانوی عوام کا گول ہے۔“
لیونل میسی نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا، مگر فائنل میں وہ اپنا جادو نہ جگا سکے اور میچ کے اختتام پر اشک بار دکھائی دیے۔ دوسری جانب میڈرڈ میں بھی آنسو بہیں گے، مگر وہ خوشی کے آنسو ہوں گے۔


Comments