BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
دنیا

بھارتی پولیس کا امتحانات کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبا پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال

  • مظاہرین کا امتحانی بے قاعدگیوں پر وزیرِ تعلیم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی پولیس نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کی اور لاٹھی چارج کیا۔ یہ مظاہرین بڑے امتحانات میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بھارتی دارالحکومت میں جنتر منتر کے قریب جیسے ہی پولیس نے دھاوا بولا اور آنسو گیس کے شیل داغے تو مظاہرین جن میں زیادہ تر نوجوان طلبا تھے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔ مظاہرین امتحانی بے قاعدگیوں بشمول سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے اور تکنیکی خرابیوں پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پیر کی صبح سے ہی مون سون کی مسلسل بوندا باندی اور پولیس کی رکاوٹوں کی پروا نہ کرتے ہوئے ہزاروں مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے، جو گزشتہ پانچ سالوں میں دارالحکومت میں ہونے والے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک ہے۔ 18 سالہ سمت کمار نے کہا کہ ہمارا ملک ایک ایسی حکومت کا حقدار ہے جو نوجوانوں کی بات سننے کی پروا کرے اور اپنی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے تیار ہو۔ مستقبل ہمارا ہے، ان سیاستدانوں کا نہیں۔یہ احتجاج ممتاز سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتے کے روز زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے نوجوانوں اور طنزیہ انداز کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جی پی) تحریک کے حق میں ان کی 20 روزہ بھوک ہڑتال اچانک ختم ہو گئی۔ مئی میں اپنے آغاز کے بعد سے سی جے پی نے ملک کے تعلیمی نظام اور بے روزگاری پر غصے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز حاصل کیے ہیں۔

سی جے پی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ کوئی جنگی زون ہے؟ پولیس پرامن مظاہرین پر آنسو گیس کا حملہ کیوں کر رہی ہے؟ پہلے آپ کی حکومت نے ایک ماہ تک اس احتجاج کو نظر انداز کیا اور اب جب ہم پرامن مارچ کر رہے ہیں تو آپ کی حکومت ہم پر حملہ کر رہی ہے۔ کیوں؟ اس تحریک کو 2024ء میں تیسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہندو قوم پرست وزیرِ اعظم نریندر مودی کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک دیکھا جا رہا ہے۔

ہم جیتیں گے

تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود دنیا کی اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں لاکھوں لوگ اب بھی مستحکم اور معقول آمدنی والی ملازمتیں تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جس سے عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ ماہ سخت سیکیورٹی میں تقریباً 22 لاکھ میڈیکل کے امیدواروں نے دوبارہ امتحان دیا تھا، کیونکہ اس سے پہلا ٹیسٹ پرچہ لیک ہونے کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا جس پر ملک گیر غصہ دیکھا گیا تھا۔ یہ اسکینڈل لگ بھگ 20 لاکھ ہائی اسکول کے طلبا کے امتحانات کے آن لائن مارکنگ سسٹم سے متعلق ایک اور تنازع کے بعد سامنے آیا۔

سی جے پی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صبح رابطہ کیے جانے کے بعد ان کے دو رہنماؤں نے پیر کو ایک سینئر وزیر سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پر مبنی خط تسلیم کیا۔ دوسری طرف پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی، جس کے باعث پیر کو وسطی نئی دہلی کے کچھ حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔ دہلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ان امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والا کوئی بھی شخص قانونی کارروائی کا ذمہ دار ہوگا۔16 سالہ شبھی راؤ نے کہا کہ وہ وانگچک کی حمایت اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج میں شامل ہوئی ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر ظاہر کیا ہے جسے اس ملک کے نوجوانوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے آغاز سے قبل اپنے عوامی خطاب میں مظاہرین کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ تاہم اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما ملکارجن کھڑگے نے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) میں یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر ہزاروں طلبا جمع ہیں۔ حکومت طاقت کا استعمال کرنے، آوازوں کو دبانے اور انہیں بھگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ایوانِ زیریں (لوک سبھا) میں بھی اپوزیشن بینچوں کی جانب سے وزیرِ تعلیم کے استعفے اور طلبا کے لیے انصاف کے مطالبات کے نعرے لگائے گئے۔

Comments

200 حروف