BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.24%)
KSE100 Increased By (0.5%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 57.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
BOP 34.13 Increased By ▲ 0.44 (1.31%)
CNERGY 10.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.75%)
DFML 18.24 Increased By ▲ 0.19 (1.05%)
DGKC 209.00 Decreased By ▼ -0.90 (-0.43%)
FABL 100.70 Increased By ▲ 1.75 (1.77%)
FCCL 54.90 Increased By ▲ 1.16 (2.16%)
FFL 16.69 Increased By ▲ 0.23 (1.4%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 1.18 (4.95%)
HBL 302.80 Increased By ▲ 0.38 (0.13%)
HUBC 220.00 Increased By ▲ 1.06 (0.48%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.04 (-0.38%)
KEL 7.40 Increased By ▲ 0.12 (1.65%)
LOTCHEM 29.55 Decreased By ▼ -0.10 (-0.34%)
MLCF 95.40 Decreased By ▼ -0.96 (-1%)
OGDC 317.20 Decreased By ▼ -1.02 (-0.32%)
PAEL 42.90 Increased By ▲ 1.13 (2.71%)
PIBTL 16.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 296.35 Decreased By ▼ -0.27 (-0.09%)
PPL 220.98 Increased By ▲ 0.81 (0.37%)
PRL 50.70 Increased By ▲ 1.65 (3.36%)
SNGP 105.30 Decreased By ▼ -0.83 (-0.78%)
SSGC 28.30 Decreased By ▼ -0.84 (-2.88%)
TELE 8.82 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.91 Increased By ▲ 0.40 (3.2%)
TRG 59.93 Decreased By ▼ -0.29 (-0.48%)
UNITY 10.52 Increased By ▲ 0.50 (4.99%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
دنیا

پولیس پابندی کے باوجود بھارت میں کاکروچ موومنٹ کے حامیوں کا پارلیمنٹ کی جانب مارچ

  • کئی ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ کے سیکڑوں حامی پیر کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوئے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، اگرچہ پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

کئی ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تحریک کو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جبکہ زمینی سطح پر بھی اس کے حامیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ہفتے کے روز بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو پولیس کی جانب سے زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد تحریک نے مزید شدت اختیار کر لی۔ پیر کو پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر ہزاروں مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر پہنچے، جہاں سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کی گئی۔

احتجاج کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور علاقے میں سخت رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ مظاہرین نے دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو اور نریندر مودی استعفیٰ دو کے نعرے لگائے۔

یہ تحریک مئی میں قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور انہیں دوبارہ امتحان دینا پڑا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے گزشتہ ماہ سے وزیر تعلیم کے استعفے کے لیے دھرنا دے رہے ہیں، جبکہ سونم وانگچک نے 28 جون کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسپتال سے جاری اپنے پیغام میں وانگچک نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر جوابدہی قبول کرے یا مظاہرین کو پارلیمنٹ تک جانے کی اجازت دی جائے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحریک بھارت میں نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، امتحانی نظام میں بدعنوانی اور بار بار پرچے لیک ہونے کے خلاف پائی جانے والی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔

Comments

200 حروف