پاکستان ایران تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے، ایف پی سی سی آئی
- ایف پی سی سی آئی کے صدر نے ایران کے صوبہ اراک سے آنے والے اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کی ایف پی سی سی آئی آمد کا خیرمقدم کیا
پاکستان کی اعلیٰ کاروباری تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ہفتہ کو کہا ہے کہ اگر پاکستان اور ایران صنعتی شراکت داری کو فروغ دیں، بینکاری ذرائع بہتر بنائیں اور سرحد پار تجارتی طریقہ کار کو آسان بنائیں تو دونوں ممالک کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت آئندہ 3 سے 5 سال میں موجودہ 2.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
انہوں نے ایران کے صوبہ اراک سے آنے والے اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کی ایف پی سی سی آئی آمد کا خیرمقدم کیا۔
ایرانی وفد کی قیادت اراک چیمبر آف کامرس، انڈسٹریز، مائنز اینڈ ایگریکلچر کے صدر ناصر بیگی کر رہے تھے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے دونوں ہمسایہ ممالک کے نجی شعبوں پر زور دیا کہ وہ روایتی تجارت سے آگے بڑھتے ہوئے مضبوط صنعتی شراکت داریاں قائم کریں۔
عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا، جس میں 684 ملین ڈالر کی پاکستانی برآمدات اور 2.1 ارب ڈالر کی ایرانی درآمدات شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، اسی لیے ایف پی سی سی آئی نے آئندہ 3 سے 5 سال کے دوران دوطرفہ تجارتی حجم کو سالانہ 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ایک پرعزم روڈ میپ تیار کیا ہے۔
ناصر بیگی نے ایف پی سی سی آئی کو بتایا کہ اراک صوبہ بھاری مشینری، انجینئرنگ آلات، آٹو پارٹس، زرعی ٹیکنالوجی اور کان کنی کے شعبے میں جدید حل فراہم کرتا ہے، جو پاکستان کے ترقی پذیر صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔
پاکستان میں ایران کے کمرشل اتاشی مراد نعمتی نے کہا کہ جاری دوطرفہ کاروباری مذاکرات کا مقصد ایران کے صوبہ اراک کی مضبوط صنعتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، پیٹروکیمیکلز، کان کنی، انجینئرنگ، گھریلو برقی آلات اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے وسیع مواقع پر زور دیا۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کاروباری روابط کو نئی حکمت عملی کے تحت فروغ دینے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، لیکن ان کے درمیان معاشی تعاون ابھی بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی خیرسگالی کو مؤثر معاشی تعاون میں بدلنے کے لیے تجارتی طریقہ کار کو آسان بنانا، بینکاری اور ادائیگی کے باقاعدہ نظام قائم کرنا اور لاجسٹکس و ٹرانسپورٹ کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایف پی سی سی آئی تجارتی شراکت داری قائم کرنے کے خواہشمند پاکستانی اور ایرانی تاجروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔


Comments