پہلی رورو شپمنٹ کی کراچی آمد، 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں درآمد
- ایم وی گرانڈے شنگھائی کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ پر لنگر انداز
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ پہنچ گئیں، اس کے ساتھ ہی آٹوموبائل درآمدات کے لیے اس خصوصی بحری نقل و حمل کی سروس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
ایم وی گرانڈے شنگھائی کراچی پورٹ پر واقع کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے جی ٹی ایم ایل) پر لنگر انداز ہوا جہاں گاڑیوں کو براہِ راست جہاز سے ڈرائیو کرکے اتارا گیا جس کی وجہ سے کرینوں کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ آمد پاکستان کے بحری شعبے کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جہاز کی آمد گزشتہ ماہ بحری امور سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کے دوران ان کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی رو رو شپمنٹ کی منظوری کے بعد عمل میں آئی۔
رو رو شپمنٹ بحری نقل و حمل کا ایک انتہائی موثر طریقہ ہے جس میں پہیوں والی کارگو جیسے کاریں، ٹرک اور بھاری مشینری کو جہاز میں نصب ریمپ کے ذریعے براہِ راست جہاز پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار کنٹینر شپنگ کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیز اور اکثر زیادہ سستا ہوتا ہے کیونکہ اس میں کرینوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔
جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ آپریشن پاکستان کی تجارتی اور لاجسٹک صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا، جدید بندرگاہی انفرااسٹرکچر ملک کو بین الاقوامی شپنگ کے معیارات کی جانب بڑھنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ عالمی معیار کی جدید شپنگ سروس کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ الیکٹرک گاڑیوں کی پہلی رورو کھیپ پاکستان کے عالمی کلین موبلٹی اور پائیدار نقل و حمل کی سپلائی چین میں بتدریج شمولیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے بحری شعبے کو مضبوط بنانے اور عالمی شپنگ نیٹ ورکس کے ساتھ پاکستان کے روابط کو بہتر بنانے کے مقصد سے شروع کیے گئے اقدامات کی حمایت کرنے کے حکومتی عزم کو دہرایا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملکی بندرگاہوں نے حال ہی میں کئی اہم میری ٹائم آپریشنز سرانجام دیے ہیں جو بندرگاہوں کے انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے اور ملک کی لاجسٹک اور شپنگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔


Comments