اسٹاک ایکسچینج کی 10 سب سے زیادہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن رکھنے والی کمپنیاں کونسی؟
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس مالی سال 2025-26 کے دوران 40 فیصد سے زائد بڑھ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس مالی سال 2025-26 کے دوران 40 فیصد سے زائد بڑھ گیا اور مالی سال کا اختتام مضبوط انداز میں کیا۔ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری معاشی پروگرام کے تحت معاشی استحکام نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رکھا۔
اس تیزی نے مارکیٹ کی قدر (مارکیٹ ویلیوایشن) میں نمایاں تبدیلی پیدا کی، جہاں کئی بلیو چِپ کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (مارکیٹ مالیت) میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا۔ مالیاتی ادارے، توانائی کمپنیاں اور بڑے صنعتی گروپس بدستور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر غالب رہے، جو ملک کے لسٹڈ کارپوریٹ شعبے میں ان کے نمایاں کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
ذیل میں مالی سال 2025-26 کے اختتام پر مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی 10 سب سے قیمتی کمپنیوں کی فہرست دی جا رہی ہے۔
- آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی)
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: او جی ڈی سی) پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنی ہے، جس کی سرگرمیوں میں تیل و گیس کی تلاش، ڈرلنگ آپریشن سروسز، پیداوار، ریزروائر مینجمنٹ اور انجینئرنگ معاونت شامل ہیں۔
کمپنی کے پاس پاکستان میں سب سے وسیع تلاش کا رقبہ موجود ہے، جو ملک میں الاٹ کیے گئے کل ایکسپلوریشن ایریا کے 40 فیصد سے زائد پر مشتمل ہے اور جہاں تیل و گیس کے خالص ذخائر موجود ہیں۔
او جی ڈی سی میں 67 فیصد سے زائد حصص کے ساتھ حکومتِ پاکستان سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے، جبکہ اس کے بعد او جی ڈی سی ایمپلائی امپاورمنٹ ٹرسٹ اور پرائیویٹائزیشن کمیشن آف پاکستان کا نمبر آتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر موجود کمپنی کے تعارف کے مطابق، او جی ڈی سی 23 اکتوبر 1997 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 (موجودہ کمپنیز ایکٹ 2017) کے تحت رجسٹر کی گئی۔
یہ کمپنی تیل و گیس کے وسائل کی تلاش، ترقی، پیداوار، فروخت اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے قائم کی گئی، جو اس سے قبل آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن انجام دے رہی تھی، جس کا قیام 1961 میں عمل میں آیا تھا۔
نومبر 2025 میں کمپنی نے واجبات کی وصولی میں نمایاں پیش رفت کی اطلاع دی اور قدرتی گیس کی تلاش میں اضافے پر مبنی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔
فروری 2026 میں او جی ڈی سی نے پنجاب کے ضلع چکوال میں واقع کال-03 کنویں سے تیل کی پیداوار میں 1,400 فیصد اضافہ کیا۔ کمپنی کے مطابق یہ کامیابی کامیاب ورک اوور آپریشن کے ذریعے حاصل ہوئی۔
جون 2026 میں کمپنی نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں واقع اپنے تلاشی کنویں بوبی ڈیپ-1 سے تجارتی پیداوار شروع ہونے کا اعلان کیا۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر او جی ڈی سی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 5.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 3.41 ارب ڈالر کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھی۔
- یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل)
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (پی ایس ایکس: یو بی ایل) کا قیام 1959 میں عمل میں آیا۔ یہ پاکستان میں رجسٹرڈ ایک کمرشل بینک ہے، جو بینکاری اور متعلقہ مالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔
یہ بینک بیسٹ وے انٹرنیشنل ہولڈنگز لمیٹڈ کا ذیلی ادارہ ہے، جبکہ بیسٹ وے انٹرنیشنل ہولڈنگز مکمل طور پر بیسٹ وے گروپ لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔
بینک کی ویب سائٹ کے مطابق یو بی ایل پاکستان بھر میں 1,933 سے زائد برانچز، 1,750 سے زائد اے ٹی ایمز اور برانچ لیس بینکاری سروس یو بی ایل اومنی کے ذریعے ملک کے بڑے بینکاری نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے۔
جنوری 2026 میں یو بی ایل مختصر عرصے کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گیا، جب اس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور اس نے اس وقت 4.53 ارب ڈالر مالیت رکھنے والی او جی ڈی سی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
بعد ازاں فروری 2026 میں بینک نے پاکستان کے معروف کاروباری گروپ اینگرو کی ایک ذیلی کمپنی کے ساتھ 20 ارب روپے کی انٹرسٹ ریٹ سویپ ڈیل مکمل کی۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر یو بی ایل کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 4.03 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 2.49 ارب ڈالر کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ تھی۔
- میزان بینک لمیٹڈ (ایم ای بی ایل)
میزان بینک لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایم ای بی ایل) پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا اسلامی بینک ہے، جو 1997 میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا۔بینک نے 2002 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ملک کا پہلا اسلامی کمرشل بینکنگ لائسنس حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ کام شروع کیا۔ اس وقت بینک کارپوریٹ، کمرشل، کنزیومر، سرمایہ کاری اور ریٹیل بینکنگ کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
بینک کی ویب سائٹ کے مطابق اس کا ریٹیل بینکاری نیٹ ورک ملک بھر میں 1,000 سے زائد برانچز پر مشتمل ہے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے 950 سے زائد اے ٹی ایمز، ویزا اور ماسٹر کارڈ ڈیبٹ کارڈز، کال سینٹر، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل ایپلی کیشن اور ایس ایم ایس بینکنگ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
جنوری 2026 میں میزان بینک نے ڈاکٹر سید عامر علی کو اپنا نیا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا۔
اسی ماہ ڈاکٹر سید عامر علی نے اعلان کیا کہ بینک ابتدائی طور پر ایک کروڑ روپے (10 ملین روپے) کا سیڈ فنڈ مختص کرے گا تاکہ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی سفارش پر اسٹارٹ اپس کو وینچر کیپیٹل طرز کی مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔
فروری 2026 میں میزان بینک اور بینک سینٹر کریڈٹ (بی سی سی)، جو قازقستان کے نمایاں مالیاتی اداروں میں شمار ہوتا ہے، نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تجارتی حجم کو فروغ دینے اور کارسپانڈنٹ بینکنگ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔
اس مفاہمتی یادداشت میں ٹریڈ فنانس، سرحد پار ادائیگیوں اور دونوں ممالک کے درمیان کاروبار کرنے والے کارپوریٹ اور تجارتی صارفین کے لیے مالیاتی خدمات کی فراہمی میں تعاون کا فریم ورک طے کیا گیا۔
جون 2026 میں بینک کی ایزی ہوم فنانس اسکیم نے وزیراعظم کے اپنا گھر ہاؤسنگ فنانس پروگرام گھر ہو تو اپنا کے تحت ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پروگرام کے آغاز سے اب تک ایک ارب روپے سے زائد کے ہاؤسنگ فنانس قرضے جاری کیے۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میزان بینک کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 3.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 2.14 ارب ڈالر کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ تھی۔
- فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف سی)
فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایف ایف سی) پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ کمپنی کھاد اور کیمیکلز کی تیاری، خرید و فروخت اور مارکیٹنگ سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کھاد، کیمیکلز، سیمنٹ، فوڈ پروسیسنگ، توانائی کی پیداوار اور بینکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی کرتی ہے۔
اکتوبر 2025 میں ایف ایف سی نے انکشاف کیا کہ وہ قدرتی گیس کے متبادل کے طور پر کوئلے سے گیس بنانے کے منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے فائدہ اٹھانا اور درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنا ہے۔
نومبر 2025 میں کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ذیلی کمپنی ایف ایف بی ایل پاور کمپنی لمیٹڈ (ایف پی سی ایل) میں باقی ماندہ 25 فیصد حصص اپنی پیرنٹ کمپنی فوجی فاؤنڈیشن سے شیئر سویپ معاہدے کے ذریعے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اپریل 2026 میں عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے نام سے ایک اسپیشل پرپز وہیکل قائم کیا، جس میں فوجی فرٹیلائزر بھی بطور شیئر ہولڈر شامل ہوئی، اور بعد ازاں اسی کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا کنٹرول حاصل کیا۔
مئی 2026 میں ایف ایف سی نے ایک چینی کمپنی کے ساتھ فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن معاہدے پر دستخط کیے، جسے کمپنی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 2.0 کے تحت پاکستان کا پہلا کوئلے سے کھاد تیار کرنے کا منصوبہ قرار دیا۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر ایف ایف سی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.97 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 2.01 ارب ڈالر کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ تھی۔
- ماری انرجیز لمیٹڈ (ماری)
ماری انرجیز لمیٹڈ (سابقہ مری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ) 4 دسمبر 1984 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 (موجودہ کمپنیز ایکٹ 2017) کے تحت پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کی گئی۔
کمپنی بنیادی طور پر ہائیڈروکاربنز (تیل و گیس) کی تلاش، پیداوار اور فروخت سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے اور معدنیات کی کان کنی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔
سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے دہڑکی میں واقع ماری گیس فیلڈ، جو ملک کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ ہے، کو آپریٹ کرنے کے باعث ماری انرجیز پاکستان میں قدرتی گیس پیدا کرنے والی دوسری بڑی کمپنی ہے۔
کمپنی کے اہم صارفین میں کھاد بنانے والی کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے، گیس تقسیم کار کمپنیاں اور آئل ریفائنریز شامل ہیں۔
جولائی 2025 میں ماری انرجیز نے اورینٹ پیٹرولیم انکارپوریٹڈ (او پی آئی) کے ساتھ پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے تین بلاکس میں حصص خریدنے کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
مارچ 2026 میں کمپنی نے سندھ میں واقع اپنے ایک کنویں سے ہائیڈروکاربن کی دریافت کا اعلان کیا۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر ماری انرجیز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.91 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 2.71 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ تھی۔
- لکی سیمنٹ لمیٹڈ (لک)
لکی سیمنٹ لمیٹڈ (پی ایس ایکس:لک) 18 ستمبر 1993 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 (موجودہ کمپنیز ایکٹ 2017) کے تحت پاکستان میں قائم کی گئی۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار سیمنٹ کی تیاری اور مارکیٹنگ ہے۔
اگست 2025 میں کمپنی نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں تانبے اور سونے کے نمایاں ذخائر کی دریافت کے بعد اپنی وابستہ کمپنی نیشنل ریسورسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (این آر ایل) میں 1.2 ارب روپے تک سرمایہ کاری کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
جولائی 2026 میں لکی سیمنٹ نے اعلان کیا کہ کراچی پلانٹ میں پروسیس آپٹیمائزیشن اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کی سالانہ سیمنٹ پیداوار کی استعداد بڑھ کر 15.6 ملین ٹن ہو گئی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر لکی سیمنٹ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.47 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 1.87 ارب ڈالر کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ تھی۔
- پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی ایس ایکس: پی پی ایل) کا قیام 1950 میں پاکستان میں اس بنیادی مقصد کے ساتھ عمل میں آیا کہ تیل اور قدرتی گیس کے وسائل کی تلاش ، کھوج ، ترقی اور پیداوار کی جائے۔
پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنیوں میں شمار ہونے والی پی پی ایل، تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کی تلاش، دریافت، ترقی اور پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
کمپنی ملک کی مجموعی قدرتی گیس کی فراہمی میں 20 فیصد سے زائد حصہ ڈالتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ خام تیل، قدرتی گیس سے حاصل ہونے والے مائعات اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) بھی پیدا کرتی ہے، جس کے باعث پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اس کی حیثیت نہایت اہم ہے۔
نومبر 2025 میں بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ پی پی ایل سمندر سے زمین واپس حاصل کر کے ایک لانچ پیڈ تعمیر کر رہی ہے، جس سے کمپنی تیل و گیس کی تلاش کے عمل کو مزید تیز کر سکے گی۔
ایک دہائی سے زائد عرصے تک غیر ترقی یافتہ رہنے کے بعد، مئی 2026 میں پی پی ایل نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع فیض ایکس-ون ڈیپ (بیسل سینڈ) کنویں کو کامیابی سے فعال کر دیا۔ یہ کنواں 2014 میں کھودا گیا تھا، تاہم قریب میں پائپ لائن انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باعث اس دریافت کو ترقی نہیں دی جا سکی، جس سے یہ منصوبہ معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں رہا تھا۔
اسی ماہ پی پی ایل نے پاکستان آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کے تحت حاصل کیے گئے آٹھ آف شور ایکسپلوریشن بلاکس کے لیے پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر دستخط کیے۔
جولائی 2026 میں پی پی ایل نے اعلان کیا کہ متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادھی فیلڈ کے لیے ادھی جوائنٹ وینچر کو ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز جاری کر دی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پی پی ایل کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.37 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 1.67 ارب ڈالر کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ تھی۔
- ایم سی بی بینک لمیٹڈ (ایم سی بی)
ایم سی بی بینک لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایم سی بی) پاکستان کے بینکاری شعبے کے اولین اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
بینک 1947 میں نجی شعبے میں قائم کیا گیا، تاہم 1974 میں اسے قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں 1991 میں اس کی نجکاری کی گئی۔
ایم سی بی پہلا پاکستانی بینک ہے جس نے 2006 میں اپنے گلوبل ڈپازٹری رسیدیں (جی ڈی آرز) لندن اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ کرائیں۔ یہ پاکستان کا پہلا بینک بھی ہے جس نے مکمل ملکیتی اسلامی بینکاری ذیلی ادارہ قائم کیا۔
فروری 2026 میں ایم سی بی نے حماد خالد کو اپنا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر ایم سی بی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے 1.23 ارب ڈالر کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ تھی۔
- حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)
حبیب بینک لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایچ بی ایل) پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور ملک کے اندر اور بیرونِ ملک کمرشل بینکاری اور متعلقہ مالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔
بینک کی پیرنٹ کمپنی آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ (اے کے ایف ای ڈی) ایس اے ہے، جس کا رجسٹرڈ دفتر جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔
فروری 2026 میں ایچ بی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ناصر سلیم کی مدتِ ملازمت میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی۔
جون 2026 میں ایچ بی ایل مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس مئی کے 50.9 سے معمولی کم ہو کر 50.8 رہا، جو مسلسل دوسرے ماہ مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں معمولی توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
جولائی 2026 میں بینک نے اپنی بیجنگ برانچ کی پانچویں سالگرہ منائی۔ 2021 میں قائم ہونے والی یہ برانچ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کھلنے والی پہلی اور تاحال واحد پاکستانی بینک برانچ ہے۔
ایچ بی ایل کو شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم کی کونسل کا 2026-27 کے لیے چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر ایچ بی ایل کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.54 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 0.95 ارب ڈالر کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ تھی۔
- نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی)
نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کا قیام نیشنل بینک آف پاکستان آرڈیننس 1949 کے تحت عمل میں آیا۔
بینک پاکستان اور بیرونِ ملک کمرشل بینکاری اور متعلقہ خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر حکومتِ پاکستان کے لیے ٹریژری لین دین بھی انجام دیتا ہے۔
جنوری 2026 میں حکومتِ بلوچستان اور نیشنل بینک آف پاکستان نے طلبہ، ملازمت پیشہ خواتین اور عام شہریوں کو رعایتی اقساط پر الیکٹرک اسکوٹرز فراہم کرنے کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد سفری سہولت بہتر بنانا اور پائیدار ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا تھا۔
فروری 2026 میں حیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اطلاع دی کہ اسے نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے اپنی موجودہ مالی سہولتوں کی ری اسٹرکچرنگ / ری شیڈولنگ کے حوالے سے آفر لیٹر موصول ہوا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر نیشنل بینک آف پاکستان کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.52 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 0.83 ارب ڈالر کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ تھی۔
یہ رپورٹ جنید سنور (ڈیٹا) اور حسین افضل (گرافکس) کے تعاون سے تیار کی گئی۔
حساب کتاب کے لیے 1 امریکی ڈالر = 278 روپے کی شرحِ مبادلہ استعمال کی گئی۔


Comments