BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.7%)
KSE100 Increased By (1.09%)
KSE30 Increased By (1.13%)
BAFL 57.54 Increased By ▲ 0.51 (0.89%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.19 (0.71%)
BOP 33.85 Increased By ▲ 0.13 (0.39%)
CNERGY 9.48 Decreased By ▼ -0.09 (-0.94%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.07 (0.38%)
DGKC 207.75 Increased By ▲ 0.95 (0.46%)
FABL 99.27 Increased By ▲ 0.30 (0.3%)
FCCL 52.03 Increased By ▲ 0.15 (0.29%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.40 Decreased By ▼ -0.08 (-0.34%)
HBL 305.25 Increased By ▲ 1.93 (0.64%)
HUBC 218.50 Increased By ▲ 0.98 (0.45%)
HUMNL 10.97 Increased By ▲ 0.12 (1.11%)
KEL 7.43 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.74 Increased By ▲ 0.16 (0.52%)
MLCF 96.15 Increased By ▲ 0.48 (0.5%)
OGDC 322.11 Increased By ▲ 1.12 (0.35%)
PAEL 41.80 Increased By ▲ 0.42 (1.01%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.08 (0.48%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 7.15 (2.72%)
PPL 224.75 Increased By ▲ 0.55 (0.25%)
PRL 41.18 Decreased By ▼ -0.22 (-0.53%)
SNGP 104.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.12%)
SSGC 28.55 Increased By ▲ 0.14 (0.49%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.04 (-0.46%)
TPLP 12.49 Increased By ▲ 0.36 (2.97%)
TRG 57.75 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
UNITY 9.85 Increased By ▲ 0.14 (1.44%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.02 (1.61%)
پاکستان

معاشی بحالی کا تیز ترین راستہ زراعت اور لائیو اسٹاک ہے، وزیراعظم

  • زرخیز زمین، وافر آبی وسائل اور لاکھوں محنتی کسانوں کے باوجود ملک کی زرعی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز زراعت اور لائیو اسٹاک کو ملکی معیشت کی بحالی کا تیز ترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ویلیو ایڈڈ پیداوار پر بھرپور توجہ دی جائے تو پاکستان ایک سال کے اندر اپنی معاشی صورتحال بہتر بنا سکتا ہے۔

پاکستان کے لائیو اسٹاک کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کے عنوان سے منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زرخیز زمین، وافر آبی وسائل اور لاکھوں محنتی کسانوں کے باوجود ملک کی زرعی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ ان کے مطابق مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ شعبے کو جدید خطوط پر استوار نہ کرنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت اور لائیو اسٹاک ایسا شعبہ ہے کہ اگر ہم پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ کام کریں تو ایک سال کے اندر ملکی معیشت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت منہ کھر کی بیماری کے خلاف مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ویکسین کی تیاری کے لیے 100 فیصد مالی معاونت فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری پر قابو پائے بغیر لائیو اسٹاک کی برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس بیماری پر مؤثر انداز میں قابو نہیں پایا جاتا، مویشیوں کی برآمدات میں اضافہ ایک دور کا خواب ہی رہے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ زراعت اور لائیو اسٹاک ملکی معیشت کے اہم ستون ہیں اور لاکھوں افراد کا روزگار ان شعبوں سے وابستہ ہے، تاہم پرانے طریقۂ کار، محدود تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے کم استعمال نے ان شعبوں کو اپنی مکمل صلاحیت حاصل کرنے سے روک رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے، مگر ویلیو ایڈیشن اور پراسیسنگ کے ذریعے اس پیداوار سے خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دودھ اور گوشت کی صنعت میں ویلیو ایڈیشن کی موجودہ سطح کیا ہے، جبکہ گوشت کی عالمی تجارت سینکڑوں ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت چین کے ساتھ مل کر پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ زرعی تحقیق، تکنیکی مہارت اور جدید کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز پاکستان کے زرعی اور لائیو اسٹاک شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ گزشتہ سال کے پروگرام کی توسیع کے طور پر رواں سال چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے مزید ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو حکومتی خرچ پر خصوصی تربیت کے لیے چین بھیجا جائے گا۔

سیمینار کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اینیمل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ ٹریس ایبلٹی سسٹم کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد جینیاتی بہتری، بیماریوں کی نگرانی اور کسانوں، محققین اور سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں کے ذریعے لائیو اسٹاک کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ معاشی دباؤ اور برآمدی مشکلات سے دوچار پاکستان کے لیے زراعت اور لائیو اسٹاک صرف روایتی شعبے نہیں بلکہ ایسے ترقیاتی انجن ہیں جو ملکی معیشت کا مستقبل بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف