عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ
- برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 28 سینٹ یا 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ 72.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے باوجود عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم سپلائی میں اضافے اور مستقبل کی طلب سے متعلق خدشات کے باعث قیمتوں میں اضافہ محدود رہا۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 28 سینٹ یا 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ 72.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 29 سینٹ یا 0.26 فیصد اضافے کے بعد 68.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ پیر کو دونوں بینچ مارکس ایران جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب بند ہوئے تھے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق سپلائی میں بحالی سے فوری جغرافیائی خطرات کا پریمیم کم ضرور ہوا ہے، لیکن امریکا اور ایران کے تعلقات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار موجودہ جنگ بندی کے دیرپا ہونے کے بارے میں محتاط ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکا یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر کام مکمل کرے گا، جسے تہران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی نئی دھمکی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور خلیجی ممالک کی برآمدات میں بحالی پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے جون کے دوران خام تیل کی پیداوار بڑھا کر 3.8 ملین بیرل یومیہ سے تجاوز کر دی، جو اپریل 2020 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ اوپیک پلس نے اگست سے یومیہ 188 ہزار بیرل مزید پیداوار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے قبل جون اور جولائی کے لیے بھی اسی نوعیت کے اضافے کی منظوری دی جا چکی تھی۔
دریں اثنا سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے اگست میں اپنے اہم عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم کر دی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے اور دو دہائیوں سے زائد عرصے کی سب سے بڑی ماہانہ کمی قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ بڑی حد تک چین سمیت عالمی معیشت میں طلب کی حقیقی صورتحال اور اضافی سپلائی کے اثرات پر منحصر ہوگا۔


Comments