BR100 Decreased By (-0.44%)
BR30 Decreased By (-0.37%)
KSE100 Decreased By (-0.3%)
KSE30 Decreased By (-0.49%)
BAFL 61.70 Decreased By ▼ -0.43 (-0.69%)
BIPL 29.28 Increased By ▲ 0.86 (3.03%)
BOP 37.71 Increased By ▲ 0.58 (1.56%)
CNERGY 8.59 Increased By ▲ 0.09 (1.06%)
DFML 20.30 Decreased By ▼ -0.22 (-1.07%)
DGKC 232.75 Decreased By ▼ -1.23 (-0.53%)
FABL 105.09 Increased By ▲ 0.91 (0.87%)
FCCL 57.70 Decreased By ▼ -0.93 (-1.59%)
FFL 17.99 Decreased By ▼ -0.11 (-0.61%)
GGL 26.51 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
HBL 321.20 Increased By ▲ 3.05 (0.96%)
HUBC 234.00 Decreased By ▼ -1.65 (-0.7%)
HUMNL 11.29 Increased By ▲ 0.04 (0.36%)
KEL 8.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.19 Decreased By ▼ -0.37 (-1.21%)
MLCF 107.78 Decreased By ▼ -1.73 (-1.58%)
OGDC 344.97 Decreased By ▼ -3.75 (-1.08%)
PAEL 47.21 Increased By ▲ 0.49 (1.05%)
PIBTL 18.60 Decreased By ▼ -0.26 (-1.38%)
PIOC 282.06 Decreased By ▼ -4.15 (-1.45%)
PPL 248.20 Decreased By ▼ -4.46 (-1.77%)
PRL 37.55 Increased By ▲ 1.10 (3.02%)
SNGP 118.90 Decreased By ▼ -1.65 (-1.37%)
SSGC 32.05 Decreased By ▼ -0.30 (-0.93%)
TELE 9.15 Increased By ▲ 0.06 (0.66%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.86 (6.86%)
TRG 67.50 Increased By ▲ 0.20 (0.3%)
UNITY 10.68 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
مارکٹس

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 28 سینٹ یا 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ 72.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے باوجود عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم سپلائی میں اضافے اور مستقبل کی طلب سے متعلق خدشات کے باعث قیمتوں میں اضافہ محدود رہا۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 28 سینٹ یا 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ 72.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 29 سینٹ یا 0.26 فیصد اضافے کے بعد 68.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ پیر کو دونوں بینچ مارکس ایران جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب بند ہوئے تھے۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق سپلائی میں بحالی سے فوری جغرافیائی خطرات کا پریمیم کم ضرور ہوا ہے، لیکن امریکا اور ایران کے تعلقات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار موجودہ جنگ بندی کے دیرپا ہونے کے بارے میں محتاط ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکا یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر کام مکمل کرے گا، جسے تہران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی نئی دھمکی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور خلیجی ممالک کی برآمدات میں بحالی پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے جون کے دوران خام تیل کی پیداوار بڑھا کر 3.8 ملین بیرل یومیہ سے تجاوز کر دی، جو اپریل 2020 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ اوپیک پلس نے اگست سے یومیہ 188 ہزار بیرل مزید پیداوار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے قبل جون اور جولائی کے لیے بھی اسی نوعیت کے اضافے کی منظوری دی جا چکی تھی۔

دریں اثنا سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے اگست میں اپنے اہم عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم کر دی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے اور دو دہائیوں سے زائد عرصے کی سب سے بڑی ماہانہ کمی قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ بڑی حد تک چین سمیت عالمی معیشت میں طلب کی حقیقی صورتحال اور اضافی سپلائی کے اثرات پر منحصر ہوگا۔

Comments

200 حروف