BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (1.1%)
KSE100 Increased By (0.82%)
KSE30 Increased By (0.91%)
BAFL 63.00 Increased By ▲ 1.36 (2.21%)
BIPL 28.49 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 36.95 Increased By ▲ 0.10 (0.27%)
CNERGY 8.46 Increased By ▲ 0.14 (1.68%)
DFML 20.45 Decreased By ▼ -0.14 (-0.68%)
DGKC 235.61 Increased By ▲ 8.71 (3.84%)
FABL 103.61 Increased By ▲ 2.05 (2.02%)
FCCL 59.30 Increased By ▲ 0.64 (1.09%)
FFL 18.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
GGL 27.04 Increased By ▲ 0.42 (1.58%)
HBL 310.00 Increased By ▲ 4.09 (1.34%)
HUBC 236.00 Increased By ▲ 2.39 (1.02%)
HUMNL 11.25 Decreased By ▼ -0.03 (-0.27%)
KEL 8.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.49%)
LOTCHEM 30.49 Increased By ▲ 1.11 (3.78%)
MLCF 109.32 Increased By ▲ 2.15 (2.01%)
OGDC 350.05 Increased By ▲ 4.62 (1.34%)
PAEL 45.75 Increased By ▲ 0.36 (0.79%)
PIBTL 18.85 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
PIOC 289.05 Increased By ▲ 4.49 (1.58%)
PPL 253.24 Increased By ▲ 4.53 (1.82%)
PRL 36.45 Increased By ▲ 0.16 (0.44%)
SNGP 118.89 Increased By ▲ 0.12 (0.1%)
SSGC 31.45 Increased By ▲ 0.08 (0.26%)
TELE 9.22 Increased By ▲ 0.01 (0.11%)
TPLP 12.20 Increased By ▲ 0.56 (4.81%)
TRG 67.20 Decreased By ▼ -0.42 (-0.62%)
UNITY 10.78 Decreased By ▼ -0.15 (-1.37%)
WTL 1.26 Decreased By ▼ -0.02 (-1.56%)
پاکستان

آڈیٹر جنرل کا آر ایل این جی منتقلی میں بڑی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، صارفین سے اربوں وصول

  • آڈٹ رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کے غیر ضروری اخراجات بالآخر گیس کے نرخوں اور مقررہ ماہانہ چارجز کی صورت میں صارفین پر منتقل کر دیے گئے
شائع اپ ڈیٹ

آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے ڈائیورشن میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے، آڈٹ رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کے غیر ضروری اخراجات بالآخر گیس کے نرخوں اور مقررہ ماہانہ چارجز کی صورت میں صارفین پر منتقل کر دیے گئے۔

سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ، جو حال ہی میں قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آر ایل این جی کی منتقلی پر آنے والی لاگت، جس کا بڑا حصہ غیر ضروری قرار دیا گیا، گیس کی قیمتوں میں شامل کر دی گئی، جس کے باعث پہلے سے مالی دباؤ کا شکار صارفین پر مزید بوجھ پڑا۔

رپورٹ کے مطابق مقامی گیس کی پیداوار میں مسلسل کمی اور طلب و رسد کے بڑھتے ہوئے فرق کے باعث حکومت نے 2018 سے گھریلو اور تجارتی صارفین کو آر ایل این جی فراہم کرنے کی اجازت دی۔

تاہم آر ایل این جی، جو مقامی گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے، صارفین کو مقامی گیس کی سبسڈی شدہ قیمت پر فراہم کی گئی، جس سے دونوں کی لاگت میں فرق مسلسل بڑھتا گیا۔

ابتدائی طور پر اس فرق کو موسمی بنیادوں پر ایڈجسٹ کیا جاتا رہا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مقامی گیس کی دستیابی میں مزید کمی اور آر ایل این جی کی منتقلی میں اضافے کے باعث یہ نظام ناکام ہو گیا۔ نتیجتاً حکومت نے اس خسارے کو گیس ٹیرف اور سبسڈی کے ذریعے پورا کرنے کی اجازت دی، جس پر اب آڈیٹر جنرل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے نومبر 2018 سے اکتوبر 2023 تک 188 ملین ایم ایم بی ٹی یو سے زائد آر ایل این جی مختلف صارفین کو منتقل کی اور اس مد میں 370.36 ارب روپے کی سبسڈی کا دعویٰ کیا۔ تاہم حکومت نے صرف 116.06 ارب روپے جاری کیے، جبکہ 254.3 ارب روپے کی رقم تاحال واجب الادا ہے۔

آڈیٹر جنرل نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض اٹھایا کہ گرمیوں کے مہینوں میں، جب نسبتاً سستی مقامی گیس وافر مقدار میں دستیاب تھی، اس کے باوجود آر ایل این جی کی غیر ضروری منتقلی جاری رکھی گئی۔ اس عمل کے نتیجے میں 73.03 ارب روپے کی غیر قانونی سبسڈی کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس طرزِ عمل کے مجموعی مالی اثرات 100.9 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔

رپورٹ میں انتظامی اور حکومتی سطح پر کئی سنگین خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی، جن میں شامل ہیں:(i)آر ایل این جیکی منتقلی کو منظور شدہ گھریلو اور تجارتی صارفین سے آگے بڑھا دینا۔(ii)30.8 ارب روپے کی غیر بجٹ شدہ سبسڈی جاری کرنا۔(iii)مالی سال 2019-20 کے بعد سبسڈی کے دعووں کی پیشگی آڈٹ اور تصدیق کا مؤثر نظام نہ ہونا۔(iv)مالیاتی کنٹرول کا کمزور ہونا اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنا۔

صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے لیے حکومت نے 2023 میں گیس کے بلوں پر مقررہ ماہانہ چارجز بھی عائد کیے۔ اس مد میں ایس این جی پی ایل نے 117.37 ارب روپے وصول کیے، لیکن اس بڑی رقم کی ایڈجسٹمنٹ یا حساب کتاب کے لیے کوئی شفاف طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا، جس سے شفافیت اور جوابدہی پر مزید سوالات اٹھ گئے۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت ایس این جی پی ایل کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے کو کم کرنے میں ناکام رہی، جو مارچ 2025 تک 529.34 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اگرچہ اوگرا نے بارہا اس مسئلے کے حل کے لیے ہدایات جاری کیں، لیکن حکومت اب تک ان نقصانات کے ازالے یا انتظام کے لیے کوئی جامع پالیسی وضع نہیں کر سکی۔

آڈیٹر جنرل کے مطابق آر ایل این جی کی منتقلی کا منصوبہ ایک ہنگامی اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تھا، مگر اسے مناسب منصوبہ بندی، لاگت کے تخمینے اور مؤثر نگرانی کے بغیر نافذ کیا گیا۔ بجٹنگ، بلنگ، پیمائش اور تصدیق کے نظام میں موجود خامیوں کی وجہ سے بے ضابطگیاں اور نااہلی کئی برسوں تک جاری رہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف توانائی کی قیمتوں کے نظام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ گیس کے شعبے کی طویل مدتی پائیداری کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ اس لیے سفارش کی گئی ہے کہ سبسڈی کے تمام دعووں کی سخت جانچ پڑتال کی جائے۔سبسڈی کو صرف منظور شدہ صارفین تک محدود رکھا جائے اور مالی ایڈجسٹمنٹ اور حساب کتاب کے لیے فوری طور پر شفاف اور مؤثر نظام تشکیل دیا جائے۔

آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ آر ایل این جی کی غیر ضروری منتقلی، کمزور طرزِ حکمرانی اور ناقص مالیاتی پالیسیوں کے باعث صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے، لہٰذا عوامی مفاد کے تحفظ اور نظام میں جوابدہی بحال کرنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف