خاتون کو اغوا سے بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن شہید
- وزیرِ داخلہ کی حکام کو ملزم کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت
آج نیوز نے پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کو وفاقی دارالحکومت میں اغوا کی مبینہ کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اور ایک خاتون کو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے ایک افسر شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق نائنتھ ایونیو پر شاہین چوک کے قریب گروپ کیپٹن عاصم طارق کو موقع پر ہی گولی مار کر قتل کر دیا گیا، جبکہ حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم وہاں سے گزر رہے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار مبینہ طور پر ایک خاتون کو ہراساں کر رہا ہے اور اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائیہ کے افسر نے اپنی گاڑی روکی اور خاتون کے تحفظ کے لیے بیچ بچاؤ کرایا۔
اس دوران خاتون نے اپنی جان بچانے کے لیے افسر کی گاڑی کی دوسری طرف دوڑ لگا دی۔ مشتبہ شخص، جس کی شناخت سعد کے نام سے ہوئی ہے، نے پہلے افسر کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کیا اور پھر اچانک فائرنگ کر دی۔ گروپ کیپٹن عاصم کو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ خاتون کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ اپنے بیان میں خاتون نے انکشاف کیا کہ مشتبہ شخص اس کے دفتر کا ساتھی ہے۔
خاتون نے بتایا کہ ملزم نے صبح اسے دفتر چھوڑنے کی پیشکش کی تھی لیکن وہ اسے اس کی مرضی کے خلاف کسی دوسری جگہ لے جانے لگا۔ جب اس نے مزاحمت کی تو ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا،اسی دوران صورتحال دیکھتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم اسے بچانے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔ شہید افسر نے پسماندگان میں ایک بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر افسر کی عظیم قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
غمزدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے آئی جی اسلام آباد پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے حکام کو ملزم کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہید افسر کے خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔


Comments