ایرانی قیادت کا علی خامنہ ای کو الوداعی خراجِ عقیدت
- یہ الوداعی تقریبات ایسے وقت میں ادا کی گئیں جب ایران کی مذہبی قیادت، جسے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آرجی سی) کی حمایت حاصل ہے، اپنے طاقتور ترین مخالفین کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں بچ نکلنے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی تھی
آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی جمعے کو تہران کے ایک وسیع ہال میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا، جہاں علما، اعلیٰ حکام، غیر ملکی شخصیات اور ہزاروں سوگواروں نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں نشانہ بنائے گئے ایران کے شہید سپریم لیڈر کو الوداعی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایران نے آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں ایک ہفتے پر محیط عوامی جنازہ جلوسوں کا اہتمام کیا۔ فروری میں جنگ کے پہلے فضائی حملے میں ان کی 37 سالہ قیادت کا خاتمہ ہوا تھا، جبکہ ان تقریبات کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کے مذہبی نظام اور انقلابی نظریے سے عوامی وابستگی کا اظہار کیا گیا۔
تدفین سے قبل آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو ایران اور عراق کے اہم شیعہ مذہبی مراکز قم، نجف اور کربلا لے جایا گیا، جس کے بعد انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ایران کا مقدس ترین روضہ واقع ہے۔
جمعرات کی شب ان کا تابوت ہزاروں اشک بار حامیوں کے سامنے رکھا گیا۔ سوگوار نوحہ خوانی کے ساتھ ماتم کرتے رہے، جبکہ مجمع کی جانب سے تابوت پر پھول نچھاور کیے جاتے رہے۔ جمعے کو آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے ان اہلِ خانہ کے تابوت، جو اسی حملے میں شہید ہوئے تھے، ان کے پیش رو آیت اللہ روح اللہ خمینی کی یاد میں تعمیر کیے گئے عظیم مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھے گئے۔
یہ الوداعی تقریبات ایسے وقت میں ادا کی گئیں جب ایران کی مذہبی قیادت، جسے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آرجی سی) کی حمایت حاصل ہے، اپنے طاقتور ترین مخالفین کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں بچ نکلنے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی تھی۔
حکام نے جنازے کے بڑے جلوسوں میں لاکھوں افراد کی شرکت یقینی بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ، خوراک اور رہائش سمیت مختلف سہولتوں کا بھی انتظام کیا۔
تاہم 1979 کے انقلاب کے تقریباً پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود، اور قومی اتحاد کے سرکاری دعوؤں کے باوجود، تجزیہ کاروں کے مطابق اسلامی جمہوریہ شاید ہی کبھی اندرونی طور پر اتنی تقسیم کا شکار رہی ہو۔
ان کے مطابق مذہبی قیادت کے لیے عوامی حمایت نہایت کمزور ہو چکی ہے، جبکہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو اپنے والد پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوئے تھے، اس واقعے کے بعد سے عوامی منظر پر دکھائی نہیں دیے۔
ادھر برسوں سے عائد سخت اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا، جبکہ ملک گیر احتجاجی تحریکوں کو سکیورٹی فورسز نے بڑھتی ہوئی سختی سے کچلا، جس کا نقطۂ عروج جنوری میں ہزاروں مظاہرین کی ہلاکت کی صورت میں سامنے آیا۔


Comments