BR100 Increased By (0.34%)
BR30 Increased By (0.77%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 62.04 Increased By ▲ 0.64 (1.04%)
BIPL 28.03 Increased By ▲ 0.59 (2.15%)
BOP 36.77 Increased By ▲ 0.46 (1.27%)
CNERGY 8.39 Increased By ▲ 0.18 (2.19%)
DFML 19.93 Decreased By ▼ -0.03 (-0.15%)
DGKC 226.93 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
FABL 100.18 Decreased By ▼ -1.28 (-1.26%)
FCCL 58.61 Decreased By ▼ -0.67 (-1.13%)
FFL 17.94 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 25.20 Increased By ▲ 1.09 (4.52%)
HBL 305.64 Decreased By ▼ -1.81 (-0.59%)
HUBC 232.55 Decreased By ▼ -0.59 (-0.25%)
HUMNL 11.42 Decreased By ▼ -0.08 (-0.7%)
KEL 8.29 Decreased By ▼ -0.04 (-0.48%)
LOTCHEM 28.47 Increased By ▲ 0.28 (0.99%)
MLCF 108.29 Increased By ▲ 0.86 (0.8%)
OGDC 339.10 Increased By ▲ 4.19 (1.25%)
PAEL 45.35 Decreased By ▼ -0.07 (-0.15%)
PIBTL 19.06 Increased By ▲ 0.21 (1.11%)
PIOC 283.57 Increased By ▲ 3.11 (1.11%)
PPL 245.95 Increased By ▲ 2.21 (0.91%)
PRL 36.08 Decreased By ▼ -0.16 (-0.44%)
SNGP 118.70 Decreased By ▼ -0.93 (-0.78%)
SSGC 31.67 Decreased By ▼ -0.18 (-0.57%)
TELE 9.27 Increased By ▲ 0.25 (2.77%)
TPLP 11.23 Increased By ▲ 0.51 (4.76%)
TRG 67.84 Increased By ▲ 3.53 (5.49%)
UNITY 11.01 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کاروبار اور معیشت

چینی کمپنی کی پاکستان کے تیل، ریفائنری اور آف شور انرجی سیکٹرز میں سرمایہ کاری کی پیشکش

  • کمپنی کا مقصد ملک کے اندر ہائیڈرو کاربن (تیل و گیس) کی پیداوار بڑھانے کے لیے تعاون کرنا ہے
شائع July 2, 2026 اپ ڈیٹ July 2, 2026 08:39pm

ایک چینی کمپنی نے پاکستان کے پورے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، جس میں اپ اسٹریم برآمدات (تیل و گیس کی تلاش و پیداوار)، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، سمندری کھدائی (آف شور ایکسپلوریشن) اور توانائی کے آلات کی مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کمپنی کے چیئرمین کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران یہ بات بتائی۔پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق شانڈونگ شن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہو جیان ڈن نے پاکستان کی توانائی کی ویلیو چین کا احاطہ کرنے والی طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد فیلڈ آپٹیمائزیشن، ڈرلنگ سروسز اور پیداوار میں اضافے کے ذریعے مقامی ہائیڈرو کاربن (تیل و گیس) کی پیداوار بڑھانے میں تعاون کرنا ہے۔

چیئرمین ’ہو‘ نے پاکستان کی ریفائنریوں کو جدید بنانے کے لیے فلوئڈ کیٹلیٹک کریکنگ (ایف سی سی ) یونٹ نصب کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ فرنس آئل کو اعلیٰ قیمت والی پٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے۔ چینی کمپنی نے پاکستان میں توانائی کے آلات کی تیاری کا ایک کارخانہ قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی، جو مقامی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی برآمدی منڈیوں کی ضروریات بھی پوری کرے گا۔

دیگر تجاویز میں سمندری تیل کی تلاش اور ترقی، سیسہ کی مائننگ، سلفر پروسیسنگ پلانٹ کا قیام اور پاکستان کی ساحلی پٹی کے ساتھ انٹیگریٹڈ انرجی سٹیز (مربوط توانائی کے شہر) تیار کرنا شامل ہیں جن میں ایل این جی انفرااسٹرکچر، پٹرولیم ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور پٹرو کیمیکل صنعتیں شامل ہوں گی۔

ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت ملک میں توانائی کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اس شعبے میں ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافے) کو فروغ دینے کے لیے توانائی کے منظر نامے کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے وفد کو قابلِ عمل سرمایہ کاری کی تجاویز کی سہولت کاری کے لیے حکومتی تعاون کا یقین دلایا اور پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ بروقت فالو اپ کو یقینی بنانے کے لیے ہر تجویز کے لیے مخصوص فوکل پرسنز مقرر کرے۔

وزیر پٹرولیم نے یہ بھی واضح کیا کہ شانڈونگ شن شو گروپ نے اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران ان سے ملاقات کی تھی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا تعاون پاکستان کی اقتصادی ترقی اور توانائی کے شعبے کی کایا پلٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔

Comments

200 حروف