نئے ٹیکسوں کے بغیر 14,500 ارب روپے محصولات جمع کرسکتے ہیں،ایف بی آر کا اندازہ
- رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ مالی سال 2025-26 کے متوقع 12,983 ارب روپے کے محصولات کے مقابلے میں 11.7 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اندازہ لگایا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران کسی بھی نئے ٹیکس یا بجٹ اقدامات کے اثرات کو شامل کیے بغیر 14,500 ارب روپے محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔
بدھ کو جاری کی گئی ایویڈنس بیسڈ ریونیو فورکاسٹنگ (ای بی آر ایف) رپورٹ 2026-27 کے مطابق، موجودہ ٹیکس پالیسیوں کی بنیاد پر اور کسی بھی نئے ٹیکس یا بجٹ اقدامات کے اثرات کو شامل کیے بغیر مالی سال 2026-27 میں 14,500 ارب روپے محصولات جمع ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ مالی سال 2025-26 کے متوقع 12,983 ارب روپے کے محصولات کے مقابلے میں 11.7 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق محصولات میں متوقع اضافہ 1,517 ارب روپے بنتا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ مختلف ٹیکسوں کے لیے مخصوص ٹیکس بویانسی کے اشاریوں کو متوقع معاشی اعشاریوں پر لاگو کرکے تیار کیا گیا ہے، جس سے موجودہ ٹیکس پالیسیوں کے تحت معیشت کی قدرتی نمو کے نتیجے میں محصولات میں ہونے والے اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تخمینے میں حکومتی صوابدیدی اقدامات، جیسے ٹیکس شرحوں میں تبدیلی، نئے ٹیکسوں کا نفاذ یا ٹیکس چھوٹ کے خاتمے جیسے عوامل کو شامل نہیں کیا گیا، بلکہ صرف موجودہ ٹیکس نظام کی معاشی ترقی کے ساتھ مطابقت اور اس کی قدرتی استعداد کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق 11.7 فیصد کی متوقع شرح نمو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ محصولات میں اضافہ معتدل لیکن مستحکم رہے گا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)، صنعتی پیداوار اور تجارتی سرگرمیوں میں متوقع بہتری کے مطابق ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments