پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، عطا تارڑ
- سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر کوئی ترمیم، منسوخی، معطلی یا اسے التوا میں نہیں ڈالا جا سکتا، وفاقی وزیر اطلاعات
وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑنے سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوئی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت پاکستان کے عوام کے آبی حقوق کے تحفظ کیلئےمؤثر جواب دینے کیلئے پوری طرح پُرعزم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم ہر ممکن طریقے سے نہ صرف سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے دریائے سندھ کے پانی پر ناقابلِ تنسیخ حق کا بھی ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر ایک بین الاقوامی سیمینار جاری ہے جس کا مقصد اس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے حقوق کو اجاگر کرنا اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ پانی آنے والی نسلوں کے لیے امن اور مشترکہ خوشحالی کی علامت رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دریائے سندھ سے منسلک لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر کوئی ترمیم، منسوخی، معطلی یا اسے التوا میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ باہمی اتفاقِ رائے سے وجود میں آیا تھا، لہٰذا اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی بھی صرف باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ناکام کوشش نے اسے مختلف عالمی اور قانونی فورمز پر سبکی سے دوچار کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی بینک کی سرپرستی میں طے پانے والا یہ معاہدہ جنگوں، سیاسی اتار چڑھاؤ اور طویل کشیدگی کے باوجود قائم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک اس کی پائیداری اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ تعاون، مکالمہ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔آج جب موسمیاتی تبدیلی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، گلیشیئر غیر معمولی رفتار سے پگھل رہے ہیں اور پانی کی قلت ہمارے دور کے بڑے چیلنجز میں شامل ہو چکی ہے، ایسے وقت میں اس معاہدے کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کے چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پانی روکنے یا بند کرنے کی کوئی بھی کوشش ہمیشہ ناکام رہے گی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا یا قائم شدہ انتظامات کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف علاقائی امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے وسیع تر فریم ورک کو بھی کمزور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مستقل مزاجی سے پرامن روابط، تعمیری بات چیت اور سندھ طاس معاہدے پر وفاداری کے ساتھ عملدرآمد کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو ہماری قیادت پاکستان کے عوام کے لیے پانی کی بحالی کے لیے مؤثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے محض ہائیڈرولوجی (علمِ آب) نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صبر و تحمل دانستہ رہا ہے، لیکن پانی، خوراک، روزگار اور سماجی استحکام ایسے امور نہیں جن پر سمجھوتہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد کے حصے کے معاہدے کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف اپنی اسٹریٹجک حد (تھریش ہولڈ) کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ پاکستان صرف تقریروں کے ذریعے جواب نہیں دے رہا بلکہ بین الاقوامی نظام کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔
پاکستانی کمشنر نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس سلسلے میں سفارتی کور، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کو بریفنگ دی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے یہ ریکارڈ سلامتی کونسل کو بھی ارسال کر دیا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے حق کے پانی کو روکنے، رخ موڑنے، ہیرا پھیری کرنے یا کنٹرول کرنے کے کسی بھی اقدام کو عام انجینئرنگ نہیں سمجھا جائے گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دریائے سندھ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی تکبر کے بل بوتے پر معاہدے کو معطل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریا کو ہتھیار میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور بچوں کی پیاس کسی پڑوسی ملک کی پالیسی نہیں بن سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانیوں سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان مذاکرات چاہتا ہے لیکن قانون کے دائرے میں، پاکستان بقائے باہمی کا خواہاں ہے لیکن محکومی کا نہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے پانی، عوام، معاہدے، خودمختاری اور مستقبل کا دفاع کرے گا۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ پانی کو ہتھیار بنا کر بھارت محض ایک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا بلکہ وہ جنوبی ایشیا کو اسٹریٹجک تباہی کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر پاکستان نے اپنے دریاؤں پر کسی حملے کو فوجی جارحیت کے طور پر دیکھا تو اسے فوجی طور پر ہی جواب دینا ہوگا۔


Comments