تنخواہ کے 50 فیصد سے زائد الاؤنس ٹیکس میں قابل کٹوتی نہیں، سپریم کورٹ
- سپریم کورٹ نے تین مختلف ٹیکس معاملات میں پاک سعودی فرٹیلائزر کمپنی کی پانچ اپیلیں مسترد کر دیں
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پاک سعودی فرٹیلائزر کمپنی ایک نجی کمپنی ہے، اس لیے ملازمین کو تنخواہ کے 50 فیصد سے زائد دی جانے والی الاؤنسز ٹیکس میں قابلِ کٹوتی نہیں ہوں گی، جبکہ کمپنی ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی ادائیگی کی بھی پابند ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے، نے اسلام آباد کے لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) کے دائرہ اختیار سے متعلق تین مختلف ٹیکس معاملات میں پاک سعودی فرٹیلائزر کمپنی کی پانچ اپیلیں مسترد کر دیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اسیسنگ افسر نے کمپنی کو نجی کمپنی قرار دیا تھا، جسے بعد ازاں کمشنر انکم ٹیکس (اپیلز)، انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ وفاقی حکومت کمپنی میں براہ راست حصص کی مالک نہیں، جبکہ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کے حصص کو وفاقی حکومت کی ملکیت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ میں کمپنی کے وکیل نوید اندرابی نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارتِ صنعت کے خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ کمپنی سو فیصد حکومتی ملکیت ہے۔ تاہم ایف بی آر کی جانب سے وکیل بابر بلال نے دلائل دیے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 کے تحت کمپنی کی حیثیت کا تعین اس کے شیئر ہولڈنگ پیٹرن سے ہوتا ہے، وزارتِ صنعت کو ٹیکس قوانین کی تشریح کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ آرڈیننس میں “بالواسطہ یا فائدہ مند ملکیت کا کوئی تصور موجود نہیں۔
دوسرے معاملے میں عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین کو دی جانے والی الاؤنسز کو تنخواہ کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ کمپنی الاؤنسز ادا کر سکتی ہے، لیکن ٹیکس مقاصد کے لیے ان کی قابلِ کٹوتی حد تنخواہ کے 50 فیصد تک ہی ہوگی۔ اس سے زائد ادائیگی اخراجات کے طور پر تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
ورکرز ویلفیئر فنڈ کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ کمپنی یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اس میں وفاقی حکومت کے 50 فیصد حصص ہیں، اس لیے وہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ادائیگی سے استثنیٰ کی حقدار نہیں۔
عدالت عظمیٰ نے تمام دلائل سننے کے بعد کمپنی کی پانچوں اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ماتحت فورمز اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments