بجلی کی قیمت
- معاہدوں کے نظم و نسق کے 38 برس کے تجربے کی بنیاد پر، جس دوران میں نے ان معاہدوں کے ایک ایک صفحے کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ان پی پی ایز کو کھولا جا سکتا ہے۔ ان کی اپنی شقوں، ذیلی شقوں اور منسلک دستاویزات کی تہوں میں وہ قانونی ذرائع اور آلات موجود ہیں جن کے ذریعے ریاست کے لیے ریلیف حاصل کیا جا سکتا ہے
پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جائے وقوعہ ہے جہاں جرم کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔ بجلی کی بتیاں اس لیے نہیں جھلملاتیں کہ بجلی موجود نہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے عوام تک پہنچانے کے لیے جو نظام تشکیل دیا گیا، وہ ابتدا ہی سے روشنی پھیلانے کے بجائے وسائل نچوڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
تاریں ملک کے ہر گھر تک ضرور پہنچتی ہیں، مگر پیسے کا بہاؤ صرف ایک سمت میں جاری رہتا ہے: مسلسل باہر کی طرف، اُن سرمایہ کاروں کی جیبوں میں جو آرام و آسائش سے بیٹھے ہیں، جبکہ 26 کروڑ پاکستانی اُس بجلی کی قیمت ادا کرتے ہیں جو انہیں اکثر میسر ہی نہیں آتی۔ یہ اُس داستان کا بیان ہے کہ ایک قوم کو اس کے سرحدی دشمنوں نے نہیں، بلکہ اس کے اپنے وزیروں نے زنجیروں میں جکڑا؛ اُن دستخطوں کے ذریعے جو ایسے معاہدوں پر ثبت کیے گئے جن پر کبھی دستخط نہیں ہونے چاہیے تھے۔
جب 1990 کی دہائی میں عالمی بینک جنوبی ایشیا میں آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کا ماڈل لے کر آیا تو اس کے ساتھ ایک طے شدہ خاکہ بھی تھا: ”ٹیک اور پے“ معاہدے، یعنی بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، پیداواری استعداد کی بنیاد پر ادائیگی کی ضمانت؛ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے خودمختار ریاستی ضمانتیں؛ اور تنازعات کے تصفیے کے لیے ثالثی کا مرکز اسلام آباد یا پاکستان نہیں بلکہ لندن۔ یہ ایک ایسی دستاویز تھی جو سرمایہ کاروں کے لیے، سرمایہ کاروں ہی نے تیار کی تھی۔
بھارت نے اس خاکے کو پڑھا اور اسے اپنی ضروریات کے مطابق ازسرِ نو مرتب کیا۔ بنگلہ دیش نے اسے دیکھا اور مقامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنا دیا۔ لیکن پاکستان نے اسے جوں کا توں قبول کر لیا۔ نہ کوئی شق بدلی گئی، نہ ایک لفظ ادھر سے اُدھر ہوا، نہ ہی عوام کے تحفظ کے لیے کوئی حفاظتی بندوبست شامل کیا گیا۔
بھارت نے اپنے 2003 کے بجلی کے قانون کے تحت تنازعات کے تصفیے کا پورا نظام اپنے ریگولیٹری فریم ورک کے اندر رکھا، تاکہ کوئی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی قومی ریگولیٹر کو نظرانداز کرتے ہوئے غیر ملکی ثالثی کا سہارا نہ لے سکے۔ تنازعات ملک کے اندر ہی نمٹائے گئے اور خودمختاری محفوظ رہی۔ بنگلہ دیش نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ 2025 کے اواخر میں اس کی ہائی کورٹ نے سنگاپور میں جاری بین الاقوامی ثالثی کی کارروائی روک دی اور واضح کیا کہ قومی مفاد سے جڑے معاملات کا فیصلہ قومی عدالتوں ہی کو کرنا چاہیے۔
دونوں ہمسایہ ممالک نے ایک ہی خطرناک دستاویز کو دیکھا اور کہا: ”ہمارے گھر میں نہیں۔“ پاکستان نے کہا: ”آئیے، آرام سے تشریف رکھیے، یہ رہی چابیاں۔“
1994 کی پاور پالیسی پاکستان کی پہلی بڑی پسپائی تھی۔ اسی پالیسی کے تحت تھرمل پاور پلانٹس کے لیے استعدادِ کار کا تناسب 60 فیصد مقرر کیا گیا، یعنی سرمایہ کاروں کو ممکنہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کے 60 فیصد کے برابر ادائیگی کی ضمانت دی گئی، خواہ قومی گرڈ کو اس بجلی کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ریاست نے قرض لیا، اور گردشی قرضے کا جن اسی لمحے وجود میں آ گیا؛ ایک خاموش عفریت، جو ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید طاقتور ہوتا گیا۔
پھر 2002 آیا، اور اسی ڈھانچے کو اینٹ بہ اینٹ دوبارہ کھڑا کر دیا گیا۔ کہیں نہ کہیں، کسی سرکاری ریکارڈ میں، اُن لوگوں کے نام محفوظ ہوں گے جنہوں نے دونوں دستاویزات پر دستخط کیے اور اس کے بعد بھی سکون کی نیند سوئے۔
لیکن سب سے تلخ باب ابھی باقی تھا۔ 2015 میں، جب بھارت کی اصلاحات کو دہائیاں گزر چکی تھیں اور بنگلہ دیش کی قانونی جدتیں سب کے سامنے آ چکی تھیں، پاکستان نے ایک بار پھر دستخط کر دیے۔ لفظ بہ لفظ ۔ حرف بہ حرف۔ 1990 کی دہائی کے اسی عالمی بینک کے خاکے پر، جس میں ثالثی کا مقام لندن ہی تھا۔
فرق صرف یہ تھا کہ کوئلے اور ایل این جی سے چلنے والے نئے بجلی گھروں کے لیے استعدادِ کار کا تناسب 60 فیصد نہیں رہا۔ اسے بڑھا کر 80 فیصد کر دیا گیا۔
یہ غفلت نہیں تھی، کیونکہ غفلت تین دہائیوں تک اتنی حیران کن درستگی کے ساتھ خود کو نہیں دہراتی۔
انسانی سطح پر اگر 80 فیصد استعدادی ضمانت (کیپیسٹی گارنٹی) کو سمجھنا ہو تو یوں تصور کیجیے کہ آپ ہر ماہ اپنے پڑوسی کو پوری تنخواہ ادا کرتے ہیں ، چاہے وہ کام کرے یا نہ کرے، اور چاہے آپ کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اب اس ایک پڑوسی کی جگہ کوئلے اور ایل این جی سے چلنے والے درجنوں بجلی گھروں کا تصور کیجیے، جن میں سے ہر ایک کو اس کی ممکنہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کے 80 فیصد کی ضمانت حاصل ہے، قطعِ نظر اس کے کہ پاکستان کے کسی ایک گھر کو بھی ان کی پیدا کردہ بجلی کا ایک یونٹ درکار تھا یا نہیں۔
آج پاکستان کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 45 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن حقیقی طلب — یعنی وہ بجلی جس کی گھروں، کارخانوں اور اسپتالوں کو واقعی ضرورت ہوتی ہے — اس سے کہیں کم ہے۔ قومی گرڈ اتنی بجلی جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جتنی پیداوار کی استعداد قائم کی جا چکی ہے۔ لیکن ان معاہدوں کو طلب سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں صرف ضمانت سے غرض ہے۔
اس کا نتیجہ تباہی کے ایک نہ رکنے والے سلسلے کی صورت میں نکلا: ایسی بجلی کے عوض کیپیسٹی ادائیگیاں جو کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی، قرض پر قرض کا انبار، ٹیرف پر ٹیرف کا اضافہ، اور گردشی قرضے کا وہ ناسور جو بڑھتے بڑھتے اب قومی معیشت کی ہر شریان میں سرایت کر چکا ہے۔
اور جب گردشی قرضہ معمول کے ٹیکسوں کی دسترس سے باہر ہو گیا تو اس نے ایک اور عارضے کو جنم دیا: پٹرولیم لیوی۔ یہ وہ محصول ہے جو خاموشی سے ہر اُس لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر عائد کیا جاتا ہے جو ہر پاکستانی روزانہ خریدتا ہے۔ ایسا ٹیکس جس کا اعلان دیانت داری کے ساتھ پارلیمان میں نہیں کیا گیا، جس پر شفاف انداز میں عوامی بحث نہیں ہوئی، بلکہ اسے پسِ پردہ اس مالی خون ریزی کو روکنے کے لیے وضع کیا گیا جس کے دروازے آئی پی پیز کے معاہدوں نے کھول دیے تھے۔
جو شہری بجلی کا بل ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اب وہ اپنی موٹرسائیکل میں ایندھن بھی نہیں ڈلوا سکتا۔ جو ماں ماہانہ بجلی کے بلوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے گھر کے اخراجات اور کھانوں میں کٹوتی کرتی ہے، وہی پمپ پر یہ لیوی بھی ادا کرتی ہے، اکثر یہ جانے بغیر کہ آخر کیوں۔
1994 کی پاور پالیسی سے جنم لینے والا گردشی قرضہ اب ہر جیب تک پہنچ چکا ہے، اور 26 کروڑ لوگوں کی زندگی کو اس نہج پر لے آیا ہے جہاں اسے زندگی کہنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ یہ محض بقا کی جنگ ہے؛ روزمرہ کی ایک بے رحم، تھکا دینے والی اور مسلسل آزمائش۔
شاید سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے دو سرکاری ادارے قائم کیے: نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، جو بجلی فروخت کرتی ہے، اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی، جو اسے خریدتی ہے۔ دونوں ایک ہی سیکریٹری پاور کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ہر عملی اور انتظامی لحاظ سے یہ ایک ہی ریاست کے بازو ہیں، جو ایک ہی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے معاملات طے کرتے ہیں۔
مگر جب انہی دو ریاستی اداروں نے اپنے پاور پرچیز معاہدے تحریر کیے تو انہوں نے بھی ثالثی کے لیے لندن کا انتخاب کیا۔
آخر یہ کسی حکومت کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی ہی کمپنیوں کے درمیان تنازعات کے تصفیے کے لیے اپنی ہی عدالتوں پر اعتماد نہیں کرتی؟
پاکستان کی عدلیہ کا شمار دنیا کے کمزور ترین نظامِ انصاف میں ہوتا ہے، لیکن یہ درجہ بندی آسمان سے نازل نہیں ہوئی۔ اسے اسی سیاسی طبقے نے شعوری طور پر تشکیل دیا جس نے اسلام آباد پر لندن کو ترجیح دی اور دنیا کو، بلکہ اپنے ہی عوام کو، یہ پیغام دیا کہ پاکستانی انصاف اتنا قابلِ اعتبار نہیں کہ اس پر بھروسا کیا جا سکے۔
2013 سے 2018 کے درمیان پاکستان کا ذرائع ابلاغ ہر رات وزرا کے چہروں سے بھرا رہتا تھا۔ وزیرِ منصوبہ بندی، وزیرِ پٹرولیم، خود وزیرِ اعظم، سب میگاواٹس کے اعداد و شمار سناتے، سرمایہ کاری کی کامیابیوں کا جشن مناتے اور پاکستانی عزم سے روشن مستقبل کے وعدے کرتے نظر آتے تھے۔ وہ اسے ایک ”گیم چینجر“ قرار دیتے تھے۔
لیکن ان دعوؤں، نعروں اور اعداد و شمار کے اس پردے کے پیچھے ایسے معاہدے موجود تھے جنہوں نے آنے والی نسلوں کا مستقبل گروی رکھ دیا۔
اور آج وہی لوگ جو معاہدوں پر ازسرِ نو مذاکرات کے دعوے کرتے ہیں، جو پوڈیم پر کھڑے ہو کر اعلان کرتے ہیں کہ آئی پی پیز کے معاہدوں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، جو بجلی کے بلوں میں کمی کے وعدے کرتے ہیں، ان تمام دعوؤں کے باوجود بل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس آہنی پردے کے پیچھے جو کچھ ہوا، اسے عوام کے سامنے لانا ہوگا۔ ہر ترمیم، ہر ضمنی خط، ہر وہ شق جو خاموشی سے شامل کی گئی یا حذف کر دی گئی، ان معاہدوں کی قیمت ادا کرنے والے 26 کروڑ پاکستانی یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کے نام پر کیا کچھ کیا گیا۔
ناقابلِ تنسیخ پی پی ایز کا افسانہ
عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) آسمانی صحیفوں کی مانند ہیں جنہیں چھیڑا نہیں جا سکتا۔ لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ یہ معاہدے نہ کوئی مقدس متن ہیں اور نہ ہی الہامی دستاویزات۔ انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے، ان پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے، اور ضرورت پڑنے پر انہیں ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ دعویٰ کہ ایک ماہر اور اہل فرد ان معاہدوں کی گرہیں نہیں کھول سکتا اور انہیں ازسرِ نو ترتیب نہیں دے سکتا، صریحاً غلط ہے۔
معاہدوں کے نظم و نسق کے 38 برس کے تجربے کی بنیاد پر، جس دوران میں نے ان معاہدوں کے ایک ایک صفحے کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ان پی پی ایز کو کھولا جا سکتا ہے۔ ان کی اپنی شقوں، ذیلی شقوں اور منسلک دستاویزات کی تہوں میں وہ قانونی ذرائع اور آلات موجود ہیں جن کے ذریعے ریاست کے لیے ریلیف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس ریلیف کو حاصل کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم درکار ہے۔ اور ایسا عزم صرف اسی صورت میں موجود ہو سکتا ہے جب حکومت میں یہ جرأت ہو کہ وہ کھل کر یہ ظاہر کرے کہ کیا کچھ کیا گیا، اور کس نے کیا۔
پاکستان کی حکومت یہ نہیں کرے گی۔ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے الگ نہیں کر سکتی جس میں اس کا اپنا ہی کردار شامل ہو۔ اور اسی لیے گردشی قرضہ بڑھتا رہتا ہے، بجلی کے بل اوپر جاتے رہتے ہیں، پٹرولیم لیوی ہر پمپ پر غریب کو نچوڑتی رہتی ہے، اندھیرا گہرا ہوتا جاتا ہے، اور 26 کروڑ لوگ مسلسل اس بجلی کی قیمت ادا کرتے رہتے ہیں جو انہیں ملی ہی نہیں، اُن معاہدوں کے تحت جو انہوں نے کبھی پڑھے ہی نہیں، ایک ایسے شہر میں طے پائے جس میں وہ کبھی گئے ہی نہیں، اور ایسی عدالت میں ثالثی کے لیے بھیجے گئے جس کا خرچ وہ برداشت نہیں کر سکتے۔
یہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے پی پی ایز محض ناقص پالیسی نہیں تھے۔ یہ وہ اصل گناہ تھا جس سے بعد کے تمام مصائب نے جنم لیا، گردشی قرضہ، کیپیسٹی پیمنٹس، پٹرولیم لیوی، ناقابلِ برداشت بجلی کے بل، اور ایک ایسا مستقبل جو قرض پر تعمیر کیا گیا۔
اور اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے یہ معاہدے کیے، جنہوں نے انہیں دوبارہ توسیع دی اور جو ٹیلی وژن پر انہیں کامیابی کے طور پر پیش کرتے رہے جبکہ قوم خاموشی سے ڈوب رہی تھی، اب ایک ایسا احتساب موجود ہے جسے نہ لندن کی ثالثی کی شق روک سکتی ہے، نہ خودمختار ضمانتیں، اور نہ ہی کوئی وزارت اس سے بچ سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments