ای-پاسپورٹ پر مکمل منتقلی کی منظوری، پاسپورٹ دفاتر کو کیش لیس بنانے کا فیصلہ
- وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں خصوصی اجلاس
وفاقی وزارتِ داخلہ نے پاسپورٹ نظام میں بڑے پیمانے پر ساختی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر ای پاسپورٹس کی طرف منتقلی شامل ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاسپورٹ نظام میں اہم اصلاحات کے حوالے سے متعدد فیصلے کیے گئے۔
نئی ہدایات کے تحت پاسپورٹ کا اجرا مکمل طور پر الیکٹرانک نظام پر منتقل کیا جائے گا جبکہ آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کو بھی پاک آئی ڈی پلیٹ فارم پر منتقل کردیا جائے گا۔
یکم جولائی سے تمام پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس نظام کا نفاذ کیا جائے گا جب کہ ایف بی آر کے ساتھ مشاورت سے جلد ہی نئی کاروباری پاسپورٹ پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
مزید برآں وزارت نے پاسپورٹ کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہوم ڈلیوری سروس شروع کرنے کے ابتدائی خدوخال کو حتمی شکل دے دی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہری اپنے دستاویزات براہِ راست اپنی دہلیز پر حاصل کرسکیں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پریمیم سروسز کے لیے درخواست دینے والے افراد سے اصل اخراجات کے مطابق فیس وصول کی جائے گی۔ اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے وفاقی وزیر داخلہ کو ان اصلاحات کے نفاذ کے روڈ میپ پر تفصیلی بریفنگ دی۔
26 جنوری کو شکرا نامی ایک جدید ترین مانیٹرنگ سسٹم کا آغاز کیا گیا جسے پاسپورٹ کی درخواست کے عمل، پرنٹنگ کے طریقہ کار اور پاسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ سسٹم جسے باضابطہ طور پر سیکیور ہائبرڈ انٹیلی جنس فار نالج بیسڈ رسپانس اینالیٹکس کے نام سے جانا جاتا ہے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ میں مکمل ڈیجیٹائزیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔


Comments