سندھ بجٹ
سندھ نے 3,525 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں آمدنی کا بڑا انحصار وفاقی منتقلیوں (تقریباً 64 فیصد) پر ہے، تاہم کل متوقع آمدنی میں صوبے کے اپنے وسائل کا حصہ 22 فیصد رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے: اس میں خدمات پر سیلز ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 456 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال 362 ارب روپے وصول ہوئے تھے (یعنی 26 فیصد اضافہ)۔ سیلز ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس کے علاوہ دیگر ٹیکس وصولیوں سے 234 ارب روپے حاصل کرنے کا بجٹ رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کی 261.729 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں کمی ہے جبکہ نان ٹیکس آمدنی 85 ارب روپے متوقع ہے جو کہ 2025-26 میں وصول ہونے والے 86.5 ارب روپے کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔
تاہم ان اعدادوشمار کا گہرائی سے جائزہ لینے پر بجٹ میں شامل کی گئی اوون ریونیو کے 3 ایسے پریشان کن پہلو سامنے آتے ہیں جو پنجاب کے بجٹ میں بھی مشترک ہیں: (i) زرعی انکم ٹیکس سے اگلے مالی سال میں صرف 6 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو بلاشبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اس اصرار کی خلاف ورزی ہے کہ یہ شعبہ اپنی جی ڈی پی میں شراکت کے تناسب سے ٹیکس ادا نہیں کرتا، پنجاب حکومت نے بھی اگلے مالی سال کے لیے اس مد میں صرف 10.5 ارب روپے مختص کیے ہیں (ii) جی ایس ٹی اور زرعی ٹیکس کے علاوہ دیگر وصولیوں میں کسی بھی قسم کی کمی کو درست قرار دینا مشکل ہے خاص طور پر اگر جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہو۔
پنجاب نے اسٹامپ ڈیوٹیز کے تحت وہی آمدنی ظاہر کی ہے جو گزشتہ سال تھی جبکہ فیسوں اور جرمانوں کی مد میں 5 لاکھ روپے کی کمی کی گئی ہے حالانکہ بجٹ دستاویزات میں پولیس کی جانب سے جرمانوں اور سزاؤں سے زیادہ کمائی کا ذکر موجود ہے۔ (iii) نان ٹیکس آمدنی میں کمی کے حوالے سے بھی وہی سوالات اٹھتے ہیں۔ پنجاب نے بھی اس مد میں کمی دکھائی ہے، اگرچہ یہ سندھ کے بجٹ کے مقابلے میں کافی زیادہ تھی، خاص طور پر تقریباً 29 ارب روپے کی کمی۔
سندھ حکومت کے بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 2026-29 میں کچھ بڑے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو مرکز کے ساتھ شدید تنازعہ کا باعث بن سکتے ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:مالیاتی ڈھانچے (ایم ٹی ایف ایف) 2026-29 کے تحت حکومت کو آپریٹنگ بجٹ خسارے کا سامنا متوقع ہے جس میں آمدنی اور اخراجات کے وعدوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے باعث کل محصولات متوقع اخراجات کو پورا کرنے سے قاصر ہوں گے۔ یہ دباؤ کئی ابھرتے ہوئے خطرات کے باعث مزید بڑھ سکتا ہے جن میں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے ممکنہ مضمرات، ڈیویزیبل پول (محصولات کے مشترکہ پول) میں صوبائی حصہ کم ہونے کا امکان اور اوکٹرائے اینڈ ضلع ٹیکس (او زیڈ تی ) گرانٹ کے جاری رہنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے 12 جون کو اپنی بجٹ تقریر میں جس بات کی طرف اشارہ کیا تھا یعنی موجودہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کو اگلے سال تک مؤخر کرنا اس کے لیے ایک ایسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی حمایت درکار ہوگی، ایک ایسی شرط جس کا پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر پورا ہونا مشکل ہے۔ تاہم اسپیپر میں اس تشویش کو شامل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ موجودہ ہائبرڈ نظامِ حکومت جب اور جیسے مناسب سمجھے پارلیمانی منظوری حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پی پی پی کی قیادت کا ایک پسندیدہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے پورٹ فولیو کو فروغ دینا ہے، جس کے بارے میں بجٹ دستاویزات کا دعویٰ ہے کہ اس میں 2010 میں 5 ارب سے لے کر 2025 تک تقریباً 876 ارب روپے تک نمایاں اضافہ ہوا ہے جس میں صحت، سڑکوں کا انفرااسٹرکچر، پانی، سیاحت، جنگلات، تفریح اور تعلیم جیسے متعدد شعبے شامل ہیں۔ فی الحال 148 ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبے فعال ہیں، 130 ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبے زیرِ تعمیر ہیں اور 177 ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبے سرمایہ کاروں کی تلاش کے مرحلے میں ہیں جن کے جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ پہلو پی ایم ایل-این کی قیادت میں پیش کردہ پنجاب کے بجٹ میں نمایاں طور پر غائب تھا جو وفاقی سطح پر تو نجکاری کی حمایت کرتی ہے لیکن صوبے میں ان کی توجہ پبلک اور مقامی نجی شراکت داری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کے بجائے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔
سماجی شعبوں کے لیے مختص فنڈز میں پنجاب کی طرح سندھ کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی کٹوتی کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود متوقع سرپلس (اضافی بچت) حاصل نہیں ہوسکا جس کی آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت تمام صوبوں سے توقع کی گئی تھی۔ صوبائی بجٹ میں اگلے سال 440 ارب روپے کے سرپلس کے بجائے 36.9 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بھی یہی صورتحال رہی تھی جہاں سندھ کے لیے مرکز کی طرف سے 359 ارب روپے کا سرپلس بجٹ رکھا گیا تھا جبکہ حقیقت میں 27.87 ارب روپے کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments