سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس، وراثتی جائیدادوں کی فروخت پر سی جی ٹی کی منظوری
- یوٹیوب جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایف بی آر
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی، جبکہ وراثتی جائیدادوں کی فروخت پر کیپٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) کے نظام کی بھی توثیق کر دی گئی۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں فنانس بل 2026 میں شامل متعدد ٹیکس اقدامات کی منظوری دی گئی جن کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ابھرتے ہوئے ذرائع آمدن کو دستاویزی بنانا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یوٹیوب جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ودہولڈنگ ٹیکس اس وقت کاٹا جائے گا جب سوشل میڈیا کی آمدن بینکنگ نظام کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کی صورت میں منتقل ہوگی۔
ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا سرگرمیوں سے سالانہ آمدن تقریباً 4 سے 10 ارب روپے کے درمیان ہے، جس کے باعث حکومت ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے۔
منظور شدہ تجویز کے تحت سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بینکوں کے ذریعے موصول ہونے والی ادائیگیوں پر لاگو ہوگا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو رسمی ٹیکس نظام میں لانے اور آن لائن آمدن سے ریونیو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
کمیٹی نے وراثتی جائیدادوں اور فیملی سیٹلمنٹ سے متعلق ترامیم پر بھی غور کیا۔ ایف بی آر نے وراثتی جائیدادوں اور پلاٹس کی فروخت پر کیپٹل گینز ٹیکس عائد کرنے اور قابل ٹیکس منافع کے تعین کے لیے واضح ویلیو ایشن میکانزم متعارف کرانے کی تجویز دی۔
حکام نے وضاحت کی کہ وراثتی جائیداد کی لاگت کو اصل مالک کی وفات کے دن کی مارکیٹ ویلیو تصور کیا جائے گا، جو بعد میں فروخت کے وقت کیپٹل گینز ٹیکس کے حساب کی بنیاد بنے گی۔
چیئرمین نوید قمر نے تاہم تجویز دی کہ جائیداد کی اصل قیمت کا تعین ملکیت کی باقاعدہ منتقلی کی تاریخ سے کیا جائے۔
کمیٹی نے بعد ازاں یہ سفارش کی کہ اصل ویلیو کا تعین ملکیت کی منتقلی کی تاریخ سے کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیملی سیٹلمنٹ کے ذریعے منتقل ہونے والی وراثتی جائیدادوں کو مجوزہ فریم ورک کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ ان کی اصل قیمت کا تعین مالک کی وفات کی تاریخ ہی رہے گا تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے وراثتی اثاثوں سے متعلق ابہام ختم ہوگا اور جائیداد کی فروخت پر منافع کے ٹیکس کے لیے شفاف نظام قائم ہوگا۔
قائمہ کمیٹی نے انکم ٹیکس گوشوارے صرف الیکٹرانک طریقے سے جمع کرانے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کو اب آئی آر آئی ایس سسٹم کے ذریعے آن لائن گوشوارے جمع کرانا ہوں گے، جبکہ کمپنیوں کو بھی اپنی مالیاتی رپورٹس مشین ریڈی ایبل فارمیٹ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔
حکام نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے 2013 سے بڑی حد تک ڈیجیٹل فائلنگ اپنا لی ہے، تاہم بعض شہروں جیسے گوجرانوالہ سے اب بھی دستی گوشوارے جمع کرائے جا رہے ہیں، جس کے خاتمے کے لیے یہ تجویز لائی گئی ہے۔
کمیٹی نے ڈیجیٹل انٹیگریشن کے لیے 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی ایک اور تجویز کی بھی توثیق کر دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments