آج ریلیف، کل کا کیا؟
- پاکستان کے بنیادی اور ساختی اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہیں صرف کچھ عرصے کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن فی الحال تو جشن کا سماں ہے
بجٹ تقریر نے کسی حد تک امید کی کرن دکھائی ہے۔ ابتدائی تاثر یہ ہے کہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ کارپوریٹ شعبے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، خاص طور پر برآمدی صنعتوں، رئیل اسٹیٹ کے شعبے، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں یا پنشنرز کی پنشن میں کوئی غیرمعمولی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اب معیشت کو استحکام کے مرحلے سے نکال کر نمو کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں، خصوصاً ایف بی آر کے پرعزم ٹیکس ہدف کا حصول اور اس صورت میں درآمدات پر قابو رکھنا، اگر معیشت واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا، معیشت ابھی بھی گویا کوما میں ہے، البتہ چند ’’لالی پاپ‘‘ بانٹ دیے گئے ہیں، اور ان کا بڑا حصہ خوش حال طبقے کے حصے میں آیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے ریلیف اقدامات اور آمدنی بڑھانے کے کسی بڑے نئے اقدام کے بغیر حکومت یہ توقع کیسے کر رہی ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 17.6 فیصد بڑھ جائیں گی، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں صرف 13.2 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے؟ اضافی 4.4 فیصد کہاں سے آئے گا، اور ٹیکس ریلیف کی لاگت کس طرح پوری کی جائے گی؟
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت پہلے ہی یہ فرض کر چکی ہے کہ ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا، اور مالیاتی فریم ورک میں پیدا ہونے والا خلا آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں کی جانب سے ایک مرتبہ ملنے والی 1.1 کھرب روپے کی گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔ اس سے بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری فسکل بیلنس) کا ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت محصولات کے معاملے میں آئی ایم ایف سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جیسا کہ 2013 سے 2016 کے پروگرام کے دوران اُس وقت کی مسلم لیگ (ن) حکومت نے متعدد بار کیا تھا۔
مگر اس میں ایک اہم پیچیدگی بھی موجود ہے۔
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق صوبوں کو ایف بی آر کی 13.35 کھرب روپے تک کی وصولیوں پر این ایف سی کے تحت اپنا مکمل حصہ ملے گا۔ تاہم 13.35 کھرب روپے سے 15.3 کھرب روپے تک کی اضافی وصولیوں پر صوبوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حصے کا 57.5 فیصد وفاق کو بطور گرانٹ واپس کریں گے۔ اگر ایف بی آر کی وصولیاں ہدف سے کم رہتی ہیں، جس کا امکان بہت سے مبصرین ظاہر کر رہے ہیں، تو صوبائی گرانٹ بھی اسی تناسب سے کم ہو جائے گی۔
فی الحال تاہم حکومت داد و تحسین سمیٹ رہی ہے۔ خوش حال طبقے کے پاس خوشی منانے کی کئی وجوہات ہیں۔ سپر ٹیکس سے استثنا کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، بیرون ملک اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، بزنس کلاس سفر پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے، غیرملکی کریڈٹ کارڈ لین دین پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ٹیکسوں میں نرمی کی گئی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے بھی مثبت ردعمل متوقع ہے۔ سولر انڈسٹری اس بات پر مطمئن ہے کہ مجوزہ ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی درآمدات پر دی گئی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے، اگرچہ وسیع تر آٹو پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔ اس کے علاوہ چند رعایتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
برآمد کنندگان بھی مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکسٹائل صنعت سپر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے نقد رقوم کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، اگرچہ برآمد کنندگان کی خواہش تھی کہ کم از کم ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
آئی ٹی برآمدات پر انکم ٹیکس استثنا میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے، رعایتی مالیاتی سہولتوں پر شرحیں کم کی گئی ہیں اور دیگر مراعات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ اقدامات برآمدات میں نمایاں اضافہ کر پاتے ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ برآمد کنندگان کی آمدنی میں بہتری یقینی نظر آتی ہے۔
تاجر برادری بھی خوش ہے کیونکہ یہ اقدامات عملی طور پر ایک طرح کی ایمنسٹی اسکیم کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض ایف ایم سی جی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ کچھ مصنوعات کو تھرڈ شیڈول سے نکال کر عمومی جی ایس ٹی نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے اضافی 4 فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔
اسٹاک مارکیٹ میں بھی زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کم ٹیکسوں کے باعث مختلف شعبوں کی منافع آوری بڑھے گی اور اسی کے نتیجے میں کمپنیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ریفائنری اور آٹو سیکٹر کی آئندہ پالیسیوں میں مزید مراعات دی جائیں گی۔
رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقے بھی خاصے پُرجوش ہیں۔ ٹیکسوں میں نرمی اور بعض معروف وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کی متوقع آمد، جائیداد اور حصص بازار دونوں میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔
تاہم اس بجٹ میں سب سے نمایاں کمی یہ ہے کہ غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے کوئی بامعنی ریلیف نظر نہیں آتا۔
جہاں خوش حال طبقے، کاروباری حلقوں، سرمایہ کاروں اور متوسط طبقے کے بڑے حصے کو ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں، وہیں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات سے نبرد آزما کم آمدن والے افراد کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ سہارا دکھائی نہیں دیتا۔
کم از کم اجرت میں محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو ایسے وقت میں ایک معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے جب مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور ایندھن کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے لگی ہیں۔ کم آمدن والے گھرانوں کے لیے، جن کے اخراجات پر ٹرانسپورٹ، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نسبتاً زیادہ اثر پڑتا ہے، یہ اضافہ کسی نمایاں ریلیف کا باعث بنتا نظر نہیں آتا۔
یہ بجٹ سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان میں تو امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن آمدنی کے نچلے درجوں پر موجود طبقات کے لیے اس کے فوائد بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری طور پر اقتصادی نمو کا ہدف صرف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ یہ صورت حال اگرچہ تباہ کن نہیں، لیکن اسے مضبوط اقتصادی بحالی کی علامت بھی نہیں کہا جا سکتا۔
فی الحال سبھی اس ’’لالی پاپ‘‘ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مگر جلد یا بدیر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اگر ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ممکن ہے صوبائی گرانٹس مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں۔ اگر آئی ایم ایف نے چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تو منی بجٹ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اور اگر چھوٹ مل بھی جاتی ہے تو تیز تر اقتصادی نمو درآمدات اور بیرونی شعبے کے عدم توازن کے ذریعے ایک بار پھر معیشت کو ضرورت سے زیادہ گرم کر سکتی ہے۔
پاکستان کے بنیادی اور ساختی اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہیں صرف کچھ عرصے کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن فی الحال تو جشن کا سماں ہے۔
کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026


Comments