جنگ بندی کی امید پر ڈالر مستحکم، پروڈیوسر پرائس انڈیکس میں کمی سے فیڈرل ریزرو پر دباؤ کم
- جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی کرنسی0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 160.07 ین پر پہنچ گئی
ڈالر نے جمعہ کو ابتدائی ٹریڈنگ کےدوران اپنی مضبوطی دوبارہ حاصل کرلی، اس سے قبل تاجروں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کی اطلاعات کا جائزہ لیے جانے کے بعد ڈالر گر کر ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا۔
جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی کرنسی (ڈالر) 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 160.07 ین پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.7045 ڈالر پر آ گیا جبکہ اس کے مقابلے میں نیوزی لینڈ کا ڈالر (کیوی) بھی 0.1 فیصد گراوٹ کے ساتھ 0.5830 ڈالر پر ریکارڈ کیا گیا۔
یورو کی آخری قیمت 1.1576 ڈالر رہی جو جمعرات کو یورپی سنٹرل بینک کی جانب سے 3 سال میں پہلی بار شرحِ سود میں اضافے کے بعد ایک ہفتے کی مضبوط ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔
دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ بغیر کسی تبدیلی کے 1.3414 ڈالر پر مستحکم رہا۔
ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں نے کلائنٹس کے نام ایک نوٹ میں لکھا کہ امریکی سیشن کے اختتام پر مارکیٹ کا رخ اس وقت بدل گیا جب صدر ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ حملے منسوخ کردیے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسی ہفتے کے آخر تک کسی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کو اس بیان کے بعد کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسی ہفتے کے آخر تک امن معاہدہ طے پاسکتا ہے برینٹ خام تیل کی قیمت 1.6 فیصد گر کر 88.94 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ دوسری جانب ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ابھی تک کسی معاہدے پر حتمی فیصلے پر نہیں پہنچا ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مئی میں امریکہ کے پروڈیوسر پرائسز (صنعتی پیداواری قیمتوں) میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ساڑھے تین سال کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے توانائی کی مصنوعات کی لاگت کو بڑھا دیا تھا۔
حالیہ پیش رفت کے باعث امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی جس سے ڈالر انڈیکس گر گیا جبکہ آسٹریلوی ڈالر، امریکی ڈالر اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اوپر چلا گیا۔
تاہم تاجروں کو اس رپورٹ کی تفصیلات میں حوصلہ افزا پہلو مل گئے ہیں۔
سڈنی میں آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے کہا کہ زیادہ اہم بنیادی پی پی آئی ریڈنگ جو عام طور پر براہِ راست کور پی سی ای افراطِ زر میں منتقل ہوتی ہے سالانہ بنیاد پر 4.9 فیصد رہی جو کہ 5.4 فیصد کی توقع سے کافی کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ مل کر افراطِ زر سے متعلق خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔
رپورٹ کے بعد فیڈرل ریزرو کی اگلی شرحِ سود میں اضافے کے وقت کے بارے میں توقعات دسمبر تک واپس چلی گئیں۔ فیڈ فنڈز فیوچرز کے مطابق اب امریکی مرکزی بینک کے 28 اکتوبر کو ختم ہونے والے دو روزہ اجلاس میں 25 بیسز پوائنٹس کے اضافے کے تقریباً 63.3 فیصد امکانات ہیں جبکہ ایک روز قبل یہ امکان برابر سطح پر تھا، یہ معلومات سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق ہیں۔
ایل ایس ای جی کے اعدادوشمار کے مطابق اب یہ بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی ہے کہ یورپی سنٹرل بینک ستمبر میں شرحِ سود میں دوبارہ اضافہ کرے گا۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد معمولی اضافے کے ساتھ 63,460.05 ڈالر پر پہنچ گیا جبکہ ایتھر بھی 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور اس کی قیمت 1,672.55 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔


Comments