ایران پر امریکی حملے کا منصوبہ منسوخ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ خام تیل کے سودے 1.21 ڈالر یا 1.3 فیصد گراوٹ کے ساتھ 89.17 ڈالر فی بیرل پر آگئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کے منصوبے منسوخ کرنے کے بعد جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آئی، اس فیصلے نے ہفتے کے اوائل میں ہونے والے یکے بعد دیگرے حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافے کے خدشات کم ہو گئے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 1.21 ڈالر یا 1.3 فیصد گراوٹ کے ساتھ 89.17 ڈالر فی بیرل پر آگئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.23 ڈالر یا 1.4 فیصد کمی کے بعد 86.48 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ کی قیمت میں 4.2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.4 فیصد کی گراوٹ آئی۔
ٹرمپ جنہوں نے ایران پر شدید ترین حملے کرنے کی دھمکی دی تھی انہوں نے یہ کہتے ہوئے جمعرات کو حملے منسوخ کردیے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا کہ تہران نے کسی بھی معاہدے کے متن کی منظوری نہیں دی۔
آئی جی مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے کہا کہ اگرچہ یہ صورتحال یقیناً ایک اور جھوٹی امید ثابت ہوسکتی ہے لیکن مارکیٹ کا ردعمل انتہائی تیز اور فیصلہ کن رہا۔
بدھ کو ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز پر فائرنگ کی جائے گی۔ تہران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی مہینوں سے جاری ناکہ بندی نے تیل کی قیمتوں کو اونچی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے۔
امریکی فوج نے سوشل میڈیا پر کہا کہ تجارتی بحری جہازوں نے اس آبی گزرگاہ سے اپنا سفر (آمد و رفت) جاری رکھا۔
آئی جی کے ٹونی سیکامور نے کہا کہ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی ہورہی ہے لیکن جب تک قیمت 80 ڈالر کی نچلی سطح پر موجود سپورٹ برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے مارکیٹ میں تیزی کے امکانات مضبوط رہیں گے۔


Comments