آسان ٹیکسوں کا بڑا نقصان
پاکستان بیک وقت سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیاں چلا رہا ہے جن میں بنیادی مالیاتی سرپلس (پرائمری فِسکل سرپلس) اور حقیقی معنوں میں مثبت شرحِ سود (پوزیٹو ریل انٹرسٹ ریٹس) شامل ہیں۔ ان استحکامی اقدامات کے نتیجے میں معاشی ترقی متاثر ہوئی ہے۔
تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان پالیسیوں پر باہمی ہم آہنگی کے بغیر الگ الگ عمل کیا جارہا ہے جو مہنگائی کو بھی ہوا دے رہی ہیں۔ گزشتہ سال کمی کے بعد مہنگائی دوبارہ بڑھ رہی ہے جس کے باعث اسٹیٹ بینک نے تازہ مانیٹری پالیسی جائزے میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔
حکومت یہ دلیل دے کر اپنی ذمہ داری آئی ایم ایف پر ڈال سکتی ہے کہ پروگرام کے تحت یہ اقدامات لازمی ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان شرائط کو آر ایس ایف کے تحت سرے سے قبول ہی کیوں کیا گیا۔
پالیسی اداروں نے بھی اس تشویش کی نشاندہی کی ہے۔ پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق مالیاتی پالیسی پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کے ذریعے لاگت میں اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی کو ہوا دے رہی ہے۔ نتیجتاً ایس بی پی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے پالیسی ریٹ بڑھا رہا ہے جس کے باعث حکومت کے قرض لینے کی لاگت میں بھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ بینکاری نظام سے سب سے زیادہ قرض لینے والی خود حکومت ہے۔ مالی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت پھر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے۔
قرض لینے کی بلند لاگت اور حد سے زیادہ ٹیکس کی شرح نے مجموعی طور پرکیپٹل فارمیشن کی حوصلہ شکنی کی ہے اور سرمایہ کاری کو پست سطح پر رکھا ہے۔ ملک کو آئندہ بجٹ میں اس تباہ کن چکر کو توڑنے کی ضرورت ہے۔
چند سال قبل پاکستان نے وفاقی محصولات بڑھانے کیلئے پٹرولیم لیوی میں اضافہ شروع کیا کیونکہ یہ آمدن قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہیں بنتی اور اس لیے صوبوں کے ساتھ تقسیم نہیں کی جاتی۔ وفاقی حکومت کیلئے اس کی وصولی ایف بی آر کے ٹیکسوں کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے کیونکہ ایف بی آر محصولات کا 57.5 فیصد قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کرنا پڑتا ہے۔
شروع میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح کو صفر کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا۔ یہ اقدام قابلِ فہم تھا کیونکہ پٹرولیم لیوی نے بنیادی طور پر جی ایس ٹی کی جگہ لے لی تھی۔ تاہم، جی ایس ٹی کے برعکس جس کی حد 17 سے 18 فیصد تک مقرر تھی، پٹرولیم لیوی پر ایسی کوئی حد (کیپ) موجود نہیں ہے۔ موجودہ قیمتوں پر، نافذ العمل لیوی پٹرول کی ریٹیل قیمت کے تقریباً 44 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 13 فیصد کے برابر بنتی ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم رہتیں تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن، جہاں کئی معیشتوں نے عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے صارفین کو بچانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کیے، وہیں پاکستان نے اس کے برعکس رخ اختیار کیا اور ایندھن کی قیمتوں پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیا۔ آج پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ قیمتوں میں شمار ہوتی ہیں۔
اس نے مہنگائی کو دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں دھکیل دیا ہے جس نے اسٹیٹ بینک کو اپنی سابقہ مانیٹری پالیسی کے مؤقف کو تبدیل کرنے اور پالیسی ریٹ کو 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.5 فیصد کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ اقدام بدلے میں مالیاتی نظام کی مساوات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ قرض لینے کی بڑھی ہوئی لاگت کا تقریباً نصف حصہ بالآخر بینکوں کے منافع اور سود کی آمدنی پر ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کے بڑھتے ہوئے منافع کے ذریعے حکومت کو واپس مل جاتا ہے۔ اس کے باوجود بقیہ بوجھ کو پورا کرنے کے لیے یا تو نئے ٹیکس لگانے پڑتے ہیں یا پھر دیگر اخراجات میں کٹوتیاں کرنی پڑتی ہیں۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ پاکستان میں پہلے ہی خطے کی بلند ترین جی ایس ٹی شرح میں سے ایک ہے جو کہ 18 فیصد ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے خواہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو کہ اسے بڑھا کر 19 فیصد کر دیا جائے۔ مزید برآں کئی براہِ راست ٹیکسز درحقیقت بالواسطہ طریقے سے وصول کیے جارہے ہیں جیسے ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس جو غیر کارپوریٹ سیکٹر کے لیے 15 فیصد تک جاتا ہے اور دیگر لیویز۔ ان تمام اخراجات کا بوجھ بالآخر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
حکومت کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے، بصورتِ دیگر استحکام کا یہ پروگرام اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ مسلسل پانچویں سال بھی جی ڈی پی کی شرحِ نمو 4 فیصد سے کم رہی ہے جبکہ انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریشو اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری انتہائی مایوس کن حد تک کم سطح پر جمود کا شکار ہیں۔
مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنی چاہیے۔ اگر ایک پالیسی کو سخت رکھنا ضروری ہو تو دوسری کو معاون اور نسبتاً نرم ہونا چاہیے۔ تاہم یہ اس وقت ممکن نہیں رہتا جب مالیاتی پالیسی صرف وفاقی حکومت کے فائدے کے نقطۂ نظر سے محصولات کو دیکھے اور بیرونی قرض دہندگان کی شرائط محض نئی مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے قبول کرے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بجٹ میں جس کا اعلان غالباً کل متوقع ہے وفاقی محصولات کے موجودہ ماڈل پر نظرِ ثانی کی جائے جو کہ حد سے زیادہ بالواسطہ ٹیکسوں (ان ڈائریکٹ ٹیکسز) کی طرف جھکا ہوا ہے جو پیداواری لاگت کو بڑھاتے ہیں اور امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر کہیں زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ عائد کیے جانے والے کسی بھی نئے ٹیکس یا کسی موجودہ ٹیکس یا لیوی کی شرح میں ہونے والے اضافے کا جائزہ اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں آنے والی مہنگائی اور شرحِ تبادلہ پر پڑنے والے اثرات کو جانچ کرلیا جانا چاہیے جو کہ مانیٹری پالیسی کا ذمہ دار ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments