BR100 Decreased By (-0.88%)
BR30 Decreased By (-1.57%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

نگران حکومت کو پالیسی فیصلوں کا اختیار حاصل نہیں، وفاقی آئینی عدالت

  • اگر ایسے اقدامات آئینی یا قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی پر مبنی پائے جائیں تو انہیں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی آئینی عدالت (ایف ایف سی) نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نگران حکومت ریاستی مشینری کی محض ایک عارضی نگران ہوتی ہے اور اسے پالیسی سازی یا طویل المدتی فیصلوں کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

جسٹس روزی خان کی جانب سے تحریر کردہ 11 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کا بنیادی کردار انتظامی تسلسل کو برقرار رکھنا، غیر جانبداری قائم رکھنا اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اس محدود دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کیے گئے کسی بھی اقدامات، جن میں مستقل تقرریاں، پالیسی فیصلے یا طویل المدتی مالی ذمہ داریاں شامل ہوں، کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور وہ عدالتی جانچ پڑتال کے تابع ہوں گے۔ اگر ایسے اقدامات آئینی یا قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی پر مبنی پائے جائیں تو انہیں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس روزی خان شامل تھے۔ یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے 7 جولائی 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر سنایا گیا۔

عدالت نے کہا کہ نگران حکومت کی ذمہ داری روزمرہ امور چلانا اور اقتدار کی منتقلی کو شفاف اور پرامن بنانا ہے۔ اس کا دائرہ اختیار منتخب حکومت کے برابر نہیں ہوتا اور یہ نئی پالیسیاں بنانے یا مستقل تقرریاں کرنے کی مجاز نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی اقدام کی اجازت عوامی مفاد میں بھی دی جائے تو اس کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔

مقدمے کے مطابق نگران دور حکومت میں پشاور کے مختلف کالجوں میں گریڈ-IV کی اسامیوں پر تقرریاں کی گئی تھیں، جنہیں بعد میں خیبرپختونخوا حکومت نے 2025 میں قانون سازی کے ذریعے غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا اور متعلقہ ملازمین کو فارغ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف