ماضی کی پالیسی غلطیاں دہرانے سے گریز کیا جائے، بزنس مین گروپ
- وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دیتے وقت کاروباری برادری کی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کریں، زبیر موتی والا، ریحان حنیف
بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ریحان حنیف نے وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی پالیسی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرے جنہوں نے اقتصادی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا، برآمدات کو کمزور کیا، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی اور صنعتی مسابقت کو متاثر کیا۔ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دیتے وقت کاروباری برادری کی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کریں۔
کراچی چیمبر کی قیادت نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران متعارف کرائے گئے متعدد مالیاتی اقدامات کے مایوس کن نتائج پالیسی سازوں کیلئے عبرت ناک سبق ہونے چاہئیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان میں سے کئی اقدامات کی کراچی چیمبر کی جانب سے ان کے نفاذ سے بہت پہلے ہی سخت مخالفت کی گئی تھی اور حقائق و معاشی تجزیے پر مبنی تفصیلی انتباہات بھی جاری کیے گئے تھے۔
بدقسمتی سے ان خدشات کو نظر انداز کردیا گیا جس کے نتیجے میں ایسے اثرات مرتب ہوئے جنہوں نے کاروبار، برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور حکومتی ریونیو کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس ریجیم سے نارمل ٹیکس ریجیم میں منتقل کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے زبیر موتی والا نے کہا کہ کراچی چیمبر نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ برآمد کنندگان پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانا الٹا نقصان دہ ثابت ہوگا۔
حکومت نے برآمدات اور معاشی ترقی پر اس کے طویل مدتی اثرات پر غور کیے بغیر ریونیو (آمدنی) بڑھانے کے لیے ایک قلیل مدتی نقطہِ نظر اپنایا۔
اس کے نتائج اب بالکل واضح ہیں۔ پاکستان کا ایکسپورٹ بیس سکڑ چکا ہے، برآمدی مسابقت متاثر ہوئی ہے اور برآمد کنندگان سے ٹیکس جمع کرنے کا عمل بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چین میں خلل اور جیو پولیٹیکل صورتحال نے پاکستان کو اضافی برآمدی منڈیوں پر قبضہ کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا تھا، ملک ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔
انہوں نے تمام برآمد کنندگان کیلئے ایک فیصد کی شرح پر فائنل ٹیکس ریجیم کی فوری بحالی کے کراچی چیمبر کے مطالبے کو دہرایا اور اس بات پر زور دیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ ہی سب سے پائیدار راستہ ہے۔


Comments