BR100 Increased By (1.22%)
BR30 Increased By (1.46%)
KSE100 Increased By (0.93%)
KSE30 Increased By (0.94%)
BAFL 58.15 Increased By ▲ 0.44 (0.76%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 33.70 Increased By ▲ 0.45 (1.35%)
CNERGY 8.24 Increased By ▲ 0.19 (2.36%)
DFML 19.54 Increased By ▲ 0.35 (1.82%)
DGKC 196.27 Increased By ▲ 2.62 (1.35%)
FABL 88.80 Increased By ▲ 0.57 (0.65%)
FCCL 53.44 Increased By ▲ 0.51 (0.96%)
FFL 17.83 Increased By ▲ 0.22 (1.25%)
GGL 20.65 Increased By ▲ 0.42 (2.08%)
HBL 284.74 Increased By ▲ 4.27 (1.52%)
HUBC 214.69 Increased By ▲ 2.84 (1.34%)
HUMNL 11.12 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 7.98 Increased By ▲ 0.09 (1.14%)
LOTCHEM 29.61 Increased By ▲ 0.75 (2.6%)
MLCF 86.05 Increased By ▲ 0.70 (0.82%)
OGDC 319.65 Increased By ▲ 1.58 (0.5%)
PAEL 40.61 Increased By ▲ 1.20 (3.04%)
PIBTL 17.35 Increased By ▲ 0.20 (1.17%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 4.53 (1.69%)
PPL 225.60 Increased By ▲ 0.78 (0.35%)
PRL 34.51 Increased By ▲ 0.33 (0.97%)
SNGP 100.25 Increased By ▲ 2.70 (2.77%)
SSGC 26.80 Increased By ▲ 0.49 (1.86%)
TELE 8.62 Increased By ▲ 0.24 (2.86%)
TPLP 11.31 Increased By ▲ 1.03 (10.02%)
TRG 71.68 Increased By ▲ 2.14 (3.08%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.38 (3.36%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
کاروبار اور معیشت

ایم-6 موٹروے کیلئے ترقیاتی فنڈ میں 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

  • اس منصوبے کے لیے مجموعی ضرورت 70 ارب روپے ہے
شائع June 9, 2026 اپ ڈیٹ June 9, 2026 10:03am

منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 کے تحت سکھر–حیدرآباد موٹروے (ایم-6) منصوبے کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ اس منصوبے کے لیے مجموعی ضرورت 70 ارب روپے ہے۔

یہ بات سیکریٹری منصوبہ بندی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات اور منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے مشترکہ اجلاس میں بتائی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر پرویز رشید اور قرت العین مری نے کی۔ سیکریٹری نے کہا کہ منصوبے کی مجموعی مالی ضرورت 70 ارب روپے ہے اور حتمی فنڈنگ کا فیصلہ مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اراکین کمیٹی نے منصوبے کی سست پیش رفت اور ناکافی فنڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ 306 کلومیٹر طویل ایم-6 سیکشن، پشاور–کراچی موٹروے (1522 کلومیٹر) کا واحد باقی ماندہ حصہ ہے، اور موجودہ فنڈنگ کے باعث اس کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

قومی شاہراہوں کے ادارے (این ایچ اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اراضی کا حصول مکمل کیا جا چکا ہے۔

کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ اسلامی ترقیاتی بینک، اوپیک فنڈ اور سعودی سرمایہ کاروں سمیت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ فنانسنگ کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

سینیٹر پرویز رشید نے ایم-6 کو پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کا اہم اور گمشدہ لنک قرار دیتے ہوئے اس پر پیش رفت کو سراہا۔

اجلاس میں متعدد ارکان نے متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے وزارتی نگرانی ضروری ہے۔

کمیٹی نے بلوچستان، چترال اور دیگر علاقوں میں سڑکوں کی خراب صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی سفارش کی۔ مزید کہا گیا کہ نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ ایم-6 کے لیے 70 ارب روپے کی مکمل فنڈنگ فراہم کی جائے اور اس سفارش کو قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) تک پہنچایا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف