ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے پاس صرف 22 فیصد میزائل باقی ہیں
- ایران کی فوج نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں دو امریکی ڈسٹرائرز پر "انتباہی میزائل" داغے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اپنے میزائلوں کا تقریباً 21 سے 22 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے، جبکہ تہران نے ایک ہفتے کے دوران خطے میں درجنوں میزائل داغے ہیں اور اس دوران بار بار نازک جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ”ان کے پاس اب بھی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے پاس کچھ میزائل ہیں، کچھ ڈرون ہیں۔ میں کہوں گا کہ فیصد کے لحاظ سے شاید 21، 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔“
ایران کے باقی میزائل ذخیرے سے متعلق یہ اندازہ مئی میں ٹرمپ کے دیے گئے 18 فیصد کے دعوے سے زیادہ ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جنگی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے خلیجِ عمان میں دو امریکی ڈسٹرائرز پر ”انتباہی میزائل“ فائر کیے ہیں، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کی فوری تردید کر دی۔
اس سے دو روز قبل کویت نے کہا تھا کہ اس نے 30 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا ہے، جنہیں اس کے مطابق ”وحشیانہ ایرانی جارحیت“ کا حصہ بنایا گیا تھا۔
پچھلے کئی ہفتوں سے جاری پیچیدہ مذاکرات، جو دھمکیوں اور وقفے وقفے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی سے متاثر رہے ہیں، اب تک جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
انہوں نے این بی سی کو بتایا کہ ”وہ مضبوط ہیں، وہ فخر کرتے ہیں، بہت سی چیزیں ہیں جو وہ پہلے کبھی نہیں کرنا چاہتے تھے، اب انہیں کرنا پڑیں گی۔“


Comments