پاکستان اور روس کے درمیان غیر قانونی مائیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے تاریخی معاہدے
- وزیر داخلہ محسن نقوی سے روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ نے الگ الگ ملاقاتیں
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہفتے کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ کے اجلاس کے موقع پرروس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ایک اہم سفارتی پیشرفت میں وزیر داخلہ اور روسی ہم منصب ولادیمیر کولوکولٹسیف کی ملاقات میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ان معاہدوں کی توجہ تین بنیادی شعبوں پر مرکوز ہے: غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے تعاون کو بڑھانا، دونوں ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی واپسی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا اور منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے اور منشیات سے متعلقہ جرائم کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں میں تیزی لانا شامل ہے۔
تاجکستان کے وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ کے ساتھ ملاقات کے دوران بات چیت کا محور خطے کی غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال رہی۔ دونوں وزراء نے افغانستان میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کی موجودگی اور منشیات کی پیداوار میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس وقت تقریباً 25 دہشتگرد تنظیمیں افغان سرزمین سے کام کررہی ہیں جو علاقائی استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
وفاقی وزیر محسن نقوی نے طویل مدتی تعاون کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنے کے لیے اپنے علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ بھی بات چیت کی۔
ازبکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل عزیز تاشپولاتوف کے ساتھ ملاقات میں دونوں اطراف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ (معلومات کے تبادلے) اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں وزارتِ داخلہ کے مابین تعاون کو مزید فعال اور منظم بنانے کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔
قازقستان کے یرژان سادینوف کے ساتھ مذاکرات میں دونوں وزراء نے غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ ازبکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی طرز پر دونوں اطراف نے وزارتوں کے مابین قریبی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک باقاعدہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔


Comments