اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ ہراساں کرنے پر رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
- ایم پی اے کو مومنہ اقبال کی جانب سے سائبر ہراسانی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمے کا سامنا ہے
اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ ہراساں کرنے کے معاملے پر پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
آج نیوز کے مطابق یہ مقدمہ اداکارہ کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درج کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کے متن میں ملزم ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا خان اور دیگر ساتھیوں پر سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ اور غیر قانونی نگرانی (جاسوسی) کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر اداکارہ کی غیر قانونی نگرانی کرنے اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔ مقدمے میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی کی معلومات سامنے آنے پر مومنہ اقبال نے شادی سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر ذاتی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ایف آئی آر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ملزم نے 2023 میں جھوٹے الزامات لگا کر اداکارہ کی منگنی بھی تڑوائی تھی۔
دوسری جانب لاہور کی سیشن کورٹ میں ہراسانی کے اس مبینہ کیس کی سماعت کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو 24 جون تک گرفتار کرنے سے گریز کریں۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اس معاملے پر دونوں فریقین کے تفصیلی مؤقف آنا ابھی باقی ہیں۔ واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال حال ہی میں حمزہ حبیب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔


Comments