کریمیا میں یوکرینی حملوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک
- فضائی دفاعی نظام نے 20 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، مقامی گورنر
یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب روس کے زیر قبضہ کریمیا میں یوکرینی حملوں اور روسی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
کریمیا میں روس کے مقرر کردہ حکام کے مطابق یوکرینی فورسز نے انتظامی شہر سیواستوپول اور سمیفروپول کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ کریمیا کے روسی حمایت یافتہ سربراہ سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ سمیفروپول میں ایک غیر رہائشی علاقے پر حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔
سیواستوپول کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل رازووژائیف نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 20 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، تاہم ڈرون کے ملبے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ شہر میں فضائی حملے کا الرٹ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔
روس نے 2014 میں کریمیا کو ضم کیا تھا، جو 2022 میں شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر حملے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے، جب ماسکو کے حامی صدر کے فرار کے بعد یہ علاقہ روسی کنٹرول میں آ گیا تھا۔
دوسری جانب یوکرین میں بھی روسی حملوں کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت کیف کے قریب بورسپل کے صنعتی علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کے مطابق متاثرہ مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں روسی شیلنگ کے باعث کم از کم تین شہری ہلاک ہو گئے، جبکہ دنیپروپیترووسک ریجن میں ایک اور حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
یوکرین نے روس کے اندر توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک آئل ٹرمینل پر حملہ شامل ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے جنگ کو برابر سطح پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔
ادھر روسی سرحدی علاقے بریانسک میں ایک ڈرون حملے میں ایک کرین آپریٹر ہلاک ہو گیا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو رہی ہے۔
جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔


Comments