BR100 Increased By (1.26%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.12%)
KSE30 Increased By (1.13%)
BAFL 57.79 Increased By ▲ 0.59 (1.03%)
BIPL 27.25 Increased By ▲ 0.36 (1.34%)
BOP 34.55 Increased By ▲ 0.86 (2.55%)
CNERGY 10.97 Increased By ▲ 0.36 (3.39%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.43 (2.38%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.40 Increased By ▲ 2.45 (2.48%)
FCCL 54.35 Increased By ▲ 0.61 (1.14%)
FFL 16.86 Increased By ▲ 0.40 (2.43%)
GGL 23.95 Increased By ▲ 0.13 (0.55%)
HBL 305.32 Increased By ▲ 2.90 (0.96%)
HUBC 221.95 Increased By ▲ 3.01 (1.37%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 30.04 Increased By ▲ 0.39 (1.32%)
MLCF 97.04 Increased By ▲ 0.68 (0.71%)
OGDC 321.50 Increased By ▲ 3.28 (1.03%)
PAEL 42.47 Increased By ▲ 0.70 (1.68%)
PIBTL 17.02 Increased By ▲ 0.21 (1.25%)
PIOC 298.99 Increased By ▲ 2.37 (0.8%)
PPL 223.00 Increased By ▲ 2.83 (1.29%)
PRL 52.65 Increased By ▲ 3.60 (7.34%)
SNGP 107.00 Increased By ▲ 0.87 (0.82%)
SSGC 29.51 Increased By ▲ 0.37 (1.27%)
TELE 8.94 Increased By ▲ 0.12 (1.36%)
TPLP 12.82 Increased By ▲ 0.31 (2.48%)
TRG 60.70 Increased By ▲ 0.48 (0.8%)
UNITY 10.27 Increased By ▲ 0.25 (2.5%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
کاروبار اور معیشت

وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب میں سیمنٹ رائلٹی فیصلے پر سوالات اٹھادئیے

  • سیمنٹ کی بوریوں پر رائلٹی کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوگا، ریمارکس
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی آئینی عدالت نے سیمنٹ سازی کے لیے استعمال ہونے والے چونے کے پتھر اور ارگیلیشس کلے پر پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کی شرح میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز اس کیس کی سماعت کی، جو بڑے پیمانے پر کان کنی کے تحت سیمنٹ مینوفیکچرنگ کے لیے لیز رکھنے والے معدنی حقوق کے حامل افراد سے متعلق ہے۔

گزشتہ سال جون میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس نعیم اختر افغان کر رہے تھے، نے پنجاب میں قائم سیمنٹ ساز کمپنیوں کو ریلیف دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا جس میں انہیں سیمنٹ کی ایکس فیکٹری قیمت پر 6 فیصد رائلٹی ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

بعد ازاں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ کیس وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کے نظرثانی شدہ رائلٹی نظام کو برقرار رکھا تھا، جس کے تحت چونے کے پتھر پر رائلٹی سیمنٹ کی ایکس فیکٹری فروخت قیمت کے 6 فیصد کے برابر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل مالی سال 2024 میں معدنیات پر 250 روپے فی ٹن کی مقررہ شرح تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی عائد کر سکتی ہے، جبکہ تیار شدہ مصنوعات پر رائلٹی لگانا بظاہر ایک ٹیکس کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کس طرح سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی عائد کر سکتی ہے اور ہدایت دی کہ حکومتی وکلا اس معاملے پر حکومت کو آگاہ کریں کہ موجودہ طریقہ کار مناسب نظر نہیں آتا۔ عدالت نے یہ بھی تفصیلات طلب کیں کہ اس رائلٹی کے باعث سیمنٹ کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا۔

جسٹس روزی خان نے کہا کہ سیمنٹ کی بوریوں پر رائلٹی کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوگا کیونکہ فیکٹری مالکان اضافی لاگت عوام سے وصول کریں گے، اس لیے یہ اقدام صنعت کے بجائے صارفین کو متاثر کرے گا۔

فلائنگ سیمنٹ کمپنی کی جانب سے وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو صرف معدنیات پر رائلٹی لگانے کا اختیار حاصل ہے اور تیار شدہ مصنوعات پر رائلٹی دراصل ٹیکس کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی لگانا دوہری ایکسائز ڈیوٹی وصول کرنے کے مترادف ہے۔

پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کی تاکہ حکومت سے نئی ہدایات حاصل کی جا سکیں، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

سیمنٹ کمپنیوں جن میں بیسٹ وے سیمنٹ، میپل لیف سیمنٹ، فوجی سیمنٹ، پاینیر سیمنٹ اور ڈی جی خان سیمنٹ شامل ہیں، نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پنجاب حکومت نے رائلٹی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور اگر فروخت متاثر ہوئی تو صنعت کو نقصان پہنچے گا۔

صنعتی ماہرین کے مطابق 6 فیصد رائلٹی تقریباً 1350 سے 1400 روپے فی ٹن بنتی ہے جو خیبر پختونخوا کے مقررہ 350 روپے فی ٹن کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔

یہ صورتحال 79 ملین ٹن سالانہ پیداوار رکھنے والی سیمنٹ انڈسٹری کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، جس میں پہلے ہی شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان لاگت کا فرق موجود ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ پنجاب کی پالیسی برقرار رہنے کی صورت میں صوبوں کے درمیان قیمتوں میں ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، جو ماضی میں صنعت کے اندرونی استحکام کی بنیاد رہی ہے۔

اس فرق سے خیبر پختونخوا کے سیمنٹ سازوں کو پنجاب مارکیٹ میں لاگت کا فائدہ حاصل ہو گیا ہے، جس کے باعث وہ لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں فی بوری 25 سے 30 روپے کم قیمت پر مصنوعات فروخت کر سکتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف