ای پی بی ڈی نے ٹیکس میں کمی اور ساختی اصلاحات کی سفارش کردی
- سابق وفاقی وزیر اورای پی بی ڈی کے چیئرمین گوہر اعجاز نے صرف بقا نہیں بلکہ ترقی کیلئے بجٹ کے عنوان سے پالیسی پیپر جاری کردیا
اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک نے پاکستان کا پہلا جامع شیڈو وفاقی بجٹ تیار کر لیا ہے، جس میں ٹیکسوں میں نمایاں کمی، ساختی اصلاحات اور 2026-27 کے لیے ترقی پر مبنی مالیاتی فریم ورک کی سفارش کی گئی ہے۔
سابق وفاقی وزیر اورای پی بی ڈی کے چیئرمین گوہر اعجاز نے صرف بقا نہیں بلکہ ترقی کیلئے بجٹ کے عنوان سے پالیسی پیپر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مسلسل بلند ٹیکسوں، زیادہ قرض گیری اور قلیل مدتی اقدامات نے معیشت کو جمود کے چکر میں دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے موجودہ بجٹ سازی کے نظام کو بند، مرکزی اور کاروباری طبقے سے کٹا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمدات، روزگار اور ٹیکس ادا کرنے والے طبقے کو فیصلوں سے باہر رکھا جاتا ہے، حالانکہ انہی فیصلوں کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔
پالیسی پیپر کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل اب صرف مالی نہیں بلکہ ساختی اور سیاسی نوعیت کے ہیں، جن کے حل کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔
ای پی بی ڈی کے مطابق پاکستان کا عوامی قرضہ گزشتہ ایک دہائی میں 19 کھرب روپے سے بڑھ کر تقریباً 80 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگی قومی آمدن کا تقریباً 60 فیصد کھا جاتی ہے۔ دفاعی اخراجات اور سرکاری تنخواہوں کے بعد ترقیاتی شعبوں کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔
تھنک ٹینک کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کی اوسط معاشی شرح نمو 2 فیصد سے بھی کم رہی ہے، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور لیبر فورس کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ کم ترقی نے سرمایہ کاری میں کمی، صنعتی پیداوار میں جمود اور ہنرمند افراد کی بیرون ملک ہجرت میں اضافہ کیا ہے۔
شیڈو بجٹ میں ٹیکس اصلاحات کے تحت انکم ٹیکس کی زیادہ شرح 35 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے 25 فیصد اور جی ایس ٹی کو بتدریج 18 فیصد سے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نان فائلر کیٹیگری کے خاتمے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع اور شفاف بنانے کے ذریعے محصولات میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ ٹوبیکو، لگژری آئٹمز پر بہتر ٹیکس اور ایس آر او مراعات کے خاتمے سے آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔
اخراجات میں کمی کے لیے وفاقی خسارے کو تین سال میں ختم کرنے، غیر ضروری اداروں کو بند کرنے اور ڈیولوشن کے تحت اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پالیسی پیپر میں ٹریژری سنگل اکاؤنٹ نظام کے مکمل نفاذ، این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی اور قومی اداروں جیسے این ای سی اور سی سی آئی کو فعال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ یہ اقدام سیاسی نہیں بلکہ شواہد پر مبنی متبادل معاشی حکمتِ عملی پیش کرنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو بحران سے نکال کر ترقی کی سمت پر ڈالنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments